درجہ حرارت بڑھنے سے پرندوں کی قبل ازوقت ہجرت

،تصویر کا ذریعہMARKUS VAREAVUO/NATUREPL.COM
ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے اب مہاجر پرندے اپنی افزائش نسل کے مقام تک جلدی پہنچ رہے ہیں۔
ایڈن برگ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق اس برس پرندے اپنی افزائشِ نسل کے لیے ایک دن پہلے پہنچے ہیں۔
اس سلسلے میں یونیورسٹی نے تحقیق کے لیے دنیا کے پانچ براعظموں میں موجود سینکڑوں اقسام کے پرندوں کا مطالعہ کیا۔
یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس سے سائنس دانوں کو یہ اندازہ لگانے میں مدد ملے گی کہ مستقبل میں مختلف جاندار ماحولیاتی تبدیلیوں پر کیسے اپنا ردِعمل ظاہر کریں گے۔
موسم گرما میں اپنے نئے مسکن پر اگر یہ پرندے غلط وقت پر پہنچیں چاہے وہ چند دن ہی ہوں اس سے انھیں اپنے لیے ضروری خوراک اور رہنے کا ٹھکانہ بنانے اور دستیاب سہولیات تک رسائی میں مشکلات ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح اگر یہ پرندے دیر سے دوسرے علاقوں میں منتقل ہوں تو اس سے ان کی نئی نسل کی پیدائش اور زندہ رہنے کے چانسز پر بھی اثر پڑتا ہے۔
زیادہ لمبا سفر طے کرنے والے مہاجر پرندوں کے لیے یہ زیادہ مشکلات پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ ان کے پہنچنے سے قبل ہی پہلے سے وہاں آ جانے والے پرندے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایڈن برگ یونیورسٹی سکول سے منسلک تکواج اوسوئی کا کہنا ہے کہ 'بہت سے پودوں اور جانوروں کی اقسام ایسی ہیں جو بہار سے منسلک اپنی سرگرمیاں یعنی پھول کھلنے اور افزائشِ نسل کے لیے وقت میں تبدیلی کر رہے ہیں۔
ماہرین نے مہاجر پرندوں کی نقل مکانی کے مطالعے کے دوران تین سو سال پرانے ریکارڈ کو دیکھا ہے۔







