کھل جا سم سم: اردن میں سائنسی مرکز کھل گیا

سنکروٹرون

،تصویر کا ذریعہKATE STEPHENS

،تصویر کا کیپشنسنکروٹرون انتہائی طاقتور خوردبین کے طور پر کام کرتا ہے

منگل کو اردن کے دارالحکومت عمان کے قریب ایک جدید ترین ریسرچ سینٹر کا افتتاح ہو رہا ہے۔

یہ سائنسی مرکز مشرق وسطیٰ میں سیاسی کشیدگی اور جنگ کے ماحول کے عین بیچ ایک دوسرے کے مخالف ممالک کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے۔

اس ریسرچ سینٹر کا نام معروف کہانی کے ایک فقرے 'کھل جا سم سم' کے ایک لفظ پر مبنی ہے جسے انگریزی میں 'اوپن سیسیمی' کہتے ہیں اور یہ ’سنکروٹرون لائٹ فار ایکسپریمنٹل سائنس اینڈ ایپلیکیشنز ان دا مڈل ایسٹ‘ کا مخفف ہے۔

اس مرکز میں ایٹمی ذرات کو متحرک کرنے والا سنکروٹرون ہے جو انتہائی طاقتور خوردبین کے طور پر کام کرتا ہے۔

یہاں تحقیق کرنے والوں میں ایران، اسرائیل اور فلسطین کے سائنس دان شامل ہیں جو عام حالات میں ایک ساتھ کبھی نظر نہیں آتے.

اس میں موجود سنکروٹرون سے کینسرزدہ خلیوں سے لے کر قدیم پارچہ جات اور پودوں کے امراض کو انتہائی تفصیلی طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

سیسیم

،تصویر کا ذریعہKATE STEPHENS

،تصویر کا کیپشناس مرکز کی تکمیل میں تاخیر کا سبب فنڈز کی کمی رہی ہے

زیتون کے سبز باغوں کے درمیان 'سیسیمی' کی وسیع سفید عمارت عمان شہر کے شمال میں 35 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

اس کے قیام کا خیال 20 سال پہلے پیش کیا گیا تھا لیکن علاقے کی حساسیت اور فنڈز کی کمی تعمیر میں تاخیر کا باعث ہوئی۔

برطانوی سائنس دان پروفیسر سر کرس لویلن سمتھ مختلف مشکلات کے درمیان اس پروجیکٹ کی سربراہی کرتے رہے۔

مثال کے طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور یہی حال ترکی اور قبرص کے درمیان ہے۔

ایک زمانے میں بین الاقوامی پابندیوں کے سبب ایران اپنے حصے کی رقم ادا نہیں کر سکا تھا۔ اس کے علاوہ وہاں ایران کے دو سائنس دان ہلاک ہو گئے جن کے بارے میں ایران کا الزام ہے کہ انھیں اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے قتل کیا ہے۔

سیسیمی

،تصویر کا ذریعہKATE STEPHENS

،تصویر کا کیپشنیہ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اپنی نوعیت کا واحد مرکز ہے

دنیا میں تقریباً 60 سنکروٹرونز ہیں لیکن سیسیمی مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اپنی نوعیت کا واحد مرکز ہے۔ اس کا مقصد اس علاقے کے باصلاحیت لوگوں کو یورپ اور امریکہ جانے سے روکنا ہے۔

افتتاحی تقریب میں اردن، قبرص، مصر، ایران، اسرائیل، پاکستان، فلسطین اور ترکی کے مندوبین کے علاوہ سرن، یونیسکو اور آئی اے ای اے کے سربراہان بھی شامل ہوں گے۔