لکڑی سے حاصل ہونے والی توانائی ماحولیات کے لیے ’تباہی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کم مقدار کی حامل بجلی کی پیداوار کے لیے لکڑی کا استعمال ماحول کے درجہ حراررت کو کم کرنے کے بجائے بڑھا رہا ہے۔
اس نئی تحقیق کے مطابق لکڑی اور کاربن ایک دوسرے سے لا تعلق نہیں اور یہ بھی کہ لکڑی کے جلنے سے کوئلے کی نسبت زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے۔
اس تحقیق کے مصنف کا کہنا ہے کہ بائیو ماس کے لیے امداد و تعاون دینے والوں کو فوری طور پر اسے دیکھنا چاہیے۔
درختوں سے حاصل ہونے والی توانائی برطانیہ سمیت بہت سے ممالک میں قابل تجدید توانائی کا اہم ذریعہ ہے۔
یورپ میں بائیو ماس میں گرین انرجی کے لیے شمسی اور ہوا سے لی گئی توانائی اہم ذریعہ ہے۔
عام طور پر بجلی کو لکڑی کو جلا کر حاصل کیا جاتا ہے اور یہ 65 فیصد قابلِ تجدید توانائی کا ذریعہ ہے۔
یورپی حکومتوں پر کاربن کا اخراج کم کرنے کے لیے بہت دباؤ ہے اس لیے وہ لکڑی کے استعمال سے بجلی پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں تاہم اب اس نئے اندازے سے جو کیتھم ہاؤس میں لگایا گیا ہے یہ سامنے آیا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خاتمے کے لیے اس پالیسی میں نقص ہے۔
مصنف کے مطابق موجودہ ضوابط لکڑی کے جلنے سے ہونے والے اخراج کو شمار نہیں کرتے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ نئے درخت لگا کر اس کمی کو پوارا کر لیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈنکن براک جو اس رپورٹ کے مصنف ہیں ماحول سے متعلق پالیسیوں پر کام کرنے والے ایک تجزیہ کار ہیں۔ وہ برطانیہ میں توانائی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق محکمے میں سپیشل ایڈوائزر کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خیال قابلِ بھروسہ نہیں ہے اور اس کی کوئی توجیہہ نظر نہیں آتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتے ہیں کہ 'یہ حقیقت کے جنگلات گذشتہ 20 یا 100 سال کے دوران بڑھے ہیں کا مطلب ہے کہ انھوں نے اپنے اندر بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اکھٹی کی ہے۔ آپ یہ ظاہر نہیں کر سکتے کہ اگر آپ انھیں کاٹیں گے اور جلائیں گے تو اس کا ماحول پر اثر نہیں ہوگا۔'
’آپ اس سے لکڑی کی چیزیں بنا سکتے ہیں یا فرنیچر یا اسے جلا سکتے ہیں مگر ماحول پر اثر ہونا بہت مختلف چیز ہے۔‘
ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ماحول سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ضابطوں میں درختوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو تب ہی شمار کیا جاتا ہے جب انھیں کاٹا جائے۔
اگرچہ امریکہ، کینیڈا اور روس اس طریقہ کار کو استعمال نہیں کرتے اس لیے اگر ان ملکوں سے لکڑی کے ٹکڑے یورپ لائے جائیں تو پھر ان کے جلنے پر خارج ہونے والی گیس کا اندراج نہیں کیا جاتا۔








