افغانستان: امریکہ کا نیا ’ہتھیار‘ ویاگرا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے بعض افغان جنگجو سرداروں سے معلومات حاصل کرنے کے لیے انہیں جنسی صلاحیت کو بڑھانے والی دوا ویاگرا مہیا کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی اطلاع کے مطابق یہ طریقہ بہت کار گر ثابت ہو رہا ہے۔ ایک ساٹھ سالہ جنگجؤ جس کی چار بیویاں تھیں اس چار گولیاں دی گئیں اور چار دن بعد اُس نے طالبان کی نقل و حرکت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرکے مزید گولیوں کا مطالبہ کیا۔ سی آئی اے کے ایک ایجنٹ کے حوالے سےجس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا کہا گیا کہ ’دوست بنانے اور لوگوں میں اثرا و رسوخ بڑھانے کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔‘ ’چاہے وہ سکول بنا کر ہو یا ویاگرا فراہم کرکے۔‘ اخبار کا کہنا ہے کہ ویاگرا کو بہت احیتاط سے استعمال کرنا ہوگا کیونکہ اس دوا کے متعلق دیہات میں لوگ کچھ نہیں جانتے۔ ایک ریٹائرڈ ایجنٹ نے کہا کہ یہ دوا جوانوں کو فراہم نہیں کی جاتی لیکن بوڑھے افراد سے روابط استوار کرنے کے لیے ویاگرا ’سلور بلٹ‘ یا جادو کی گولی کی طرح کام کرتی ہے۔ ساٹھ سالہ افغان جنگجو جو جنوبی افغانستان میں اپنے قبیلے کا سردار بھی تھا کسی طرح تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ سی آئی کے ایجنٹ کو علم ہوا کہ اس کی چار بیویاں ہیں۔ افغان سردار کو ویاگرا کے بارے میں بتایا گیا اور گولیاں پیش کی گئیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے ایجنٹ کے حوالے سے کہا کہ ’افغان سردار جب واپس آیا تو اس کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا اور اُس نے کہا کہ تم زبردست آدمی ہو۔‘ اخبار نے ایجنٹ کے حوالے سے مزید کہا کہ ’اس کے بعد ہم علاقے میں جو کچھ کرنا چاہتے تھےآزادی سے کر سکتے تھے۔‘ اخبار کے مطابق سی آئی اے کے پاس جنگجؤ سرداروں کو لالچ دینے کے لیے اور بھی بہت ساری چیزیں ہیں جن میں دانتوں کا علاج ، امریکی ویزے اور بچوں کے لیے کھلونے شامل ہیں۔ ایک پرائیویٹ سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے اخبار نے کہا کہ بڑی رقمیں فراہم کرنے سے شکوک و شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔ | اسی بارے میں افغانستان: خود کش حملہ، کئی ہلاک04 December, 2008 | آس پاس پانچ برطانوی فوجی ہلاک12 December, 2008 | آس پاس پاکستان کے ساتھ کام کرنا اہم: بش15 December, 2008 | آس پاس افغانستان کے لیے 30 ہزار مزید فوج20 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||