عراق: برطانوی فوج کا انخلاء مارچ سے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک سینیئر برطانوی دفاعی اہلکار کے مطابق عراق میں موجود برطانوی فوجوں کی واپسی اگلے سال مارچ سے شروع ہو جانے کا امکان ہے۔ برطانیہ اس وقت ان قانونی پہلوؤں پر غور کر رہا ہے جن کی بنیاد پر وہ خلیج کی ریاست میں اگلے برس اقوامِ متحدہ کا مینڈیٹ ختم ہونے کے بعد ٹھہر سکتا ہے۔ اس وقت بھی عراقی شہر بصرہ میں چار ہزار ایک سو برطانوی فوجی موجود ہیں لیکن دفاعی اداروں کے سربراہوں کے منصوبے کے مطابق اگر عراق میں اگلے برس جنوری میں ہونے والے انتخابات پر امن رہے تو عراق سے فوجوں کا انخلاء اگلے برس ہو جائے گا۔ اس انخلاء سے برطانیہ کو اپنے وسائل عراق کی بجائے افغانستان لگانے کی سہولت بھی مل جائےگی۔ وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے عندیہ دیا تھا کہ لگ بھگ تمام برطانوی فوجی اگلے برس کے وسط تک عراق سے واپس آ جائیں گے۔ سب چند سو فوجی عراقی سکیورٹی فوج کی تربیت کے لیے وہاں رہیں گے۔ اس سے قبل یہ عندیہ ملا تھا کہ عراق میں موجود برطانوی فوجی جنوری سے واپسی شروع کر دیں گے۔ تاہم بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ یہ سلسلہ اگلے برس مارچ سے شروع ہو نے کا امکان ہے۔ وزارتِ دفاع کی ایک ترجمان کے مطابق: ’بصرہ میں کافی بہتری آئی ہے اور عراقی حکومت، اور اتحادیوں کی کوششوں سے یہ شہر کافی تبدیل ہو چکا ہے۔ لہذا ہم اگلے برس کے اوئل میں اپنے مشن میں بنیادی تبدیلی کی توقع کر رہے ہیں۔‘ بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عراق سے فوجوں کی واپسی سے افغانستان میں وسائل بھیجنے میں آسانی ہو جائے گی اور ہیلی کاپٹر، انٹیلیجنس اثاثے اور طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے فوجی وہاں بھیجنے کے لیے مہیا ہوں گے۔‘ امریکہ بھی افغانستان میں اپنی فوج کی طاقت کو بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اسے توقع ہے کہ نیٹو اتحادی بھی ایسا ہی کریں گے۔ | اسی بارے میں براؤن امریکہ پر اثر انداز ہونگے؟28 June, 2007 | آس پاس دنیا امریکہ کی مقروض ہے: براؤن30 July, 2007 | آس پاس عراق، افغانستان میں کامیابی ناگزیر30 July, 2007 | آس پاس براؤن میدان میں اترنے کو تیار11 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||