قزاقی سے یورپ ایشیا تجارت مشکل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جہاز رانی کے ذرائع نے بتایا ہے ایک کمپنی جو اغوا کی وارداتوں کو حل کرنے کی ماہر ہے اغوا شدہ سعودی ٹینکرسیریئس سٹار کے مالکوں اور بحری قزاقوں کے درمیان مذاکرات کرا رہی ہے جن میں جہاز کا عملہ بھی شریک ہے۔ سعودی جہاز کو سنیچر کے روز پچیس رکنی عملے سمیت اغوا کیا گیا تھا۔ جہاز ایک سو ملین ڈالر کی مالیت کے تیل سے لدا ہوا ہے۔ ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق پچیس ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن کمپنی نے اس خبر کی تردید کی ہے۔ اغوا شدہ جہاز صومالیہ کی ایک بندرگاہ کے قریب لنگر انداز ہے اور کہا جارہا ہے کہ جہاز کے عملے کے ساتھ اچھا سلوک کیا جارہا ہے۔ اس دوران میں سعودی عرب، یمن، اردن صومالیہ اور مصر کے سینیئر سرکاری عہدے داروں کا ہنگامی اجلاس قاہرہ میں ہوا جس میں اس بات پر فکر مندی ظاہر کی گئی کہ قزاقی کا معاملہ اب قابو سے باہر ہو چکا ہے۔ سعودی جہاز سیریئس سٹار کے اغوا کے بعد سے کم سے کم تین اور جہاز اغوا کیے گئے ہیں۔
نیٹو کی کمان نے اعلان کیا ہے جب تک یورپی بحری بیڑہ تیار نہیں ہو جاتا اس وقت تک بحیرہ عدن میں وہ اپنے جنگی جہازوں کی کارروائی میں اضافہ کر دے گی اور کل نیٹو کے دو جنگی جہاز صومالیہ جانے والے امدادی جہاز کے ساتھ پہرہ دینے کے لیے روانہ ہوگئے جن ایک ترک جہاز بھی شامل تھا۔ نامہ نگاورں کا کہنا ہے کہ سعودی جہاز کو اغوا کرنے والے بہت ہی ماہر قزاق ہیں جن کے دبئی اور قریبی ممالک میں رابطے ہیں۔ اس سے پہلے اغوا کیے گئے جہازوں سے حاصل ہونے والے پیسے سے نئی کشتیاں اور اسلحہ خریدا گیا اور قزاقوں نے قرنِ افریقہ میں اپنا جال پھیلایا۔ بی بی سی افریقہ کے مدیر نے کہا کہ اس وقت خطے کے پانیوں میں تجارتی جہازوں کے ساتھ بحریہ کے کانوائے روانہ کرنے کا نظام قائم نہیں ہے۔ بھارتی اور روسی جہاز اس خطے میں آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں جبکہ نیٹو اور امریکی بحریہ مل کر تجارتی جہازوں سے رابطے میں رہتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ وہ انہیں بچا سکتے ہیں۔ یورپی یونین کی طرف سے دسمبر میں بحریہ کی ٹاسک فورس کی روانگی متوقع ہے۔ | اسی بارے میں سعودی جہاز صومالی ساحل پر18 November, 2008 | آس پاس دو مزید بحری جہاز ہائی جیک18 November, 2008 | آس پاس صومالیہ، انڈیا جنگی جہاز بھیجےگا17 October, 2008 | آس پاس پینتیس ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ27 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||