BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 November, 2008, 00:09 GMT 05:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قزاقی سے یورپ ایشیا تجارت مشکل
سیریئس سٹار
بحری قزاق اس سال نوے سے زیادہ جہازوں پر حملہ کر چکے ہیں
جہاز رانی کے ذرائع نے بتایا ہے ایک کمپنی جو اغوا کی وارداتوں کو حل کرنے کی ماہر ہے اغوا شدہ سعودی ٹینکرسیریئس سٹار کے مالکوں اور بحری قزاقوں کے درمیان مذاکرات کرا رہی ہے جن میں جہاز کا عملہ بھی شریک ہے۔

سعودی جہاز کو سنیچر کے روز پچیس رکنی عملے سمیت اغوا کیا گیا تھا۔ جہاز ایک سو ملین ڈالر کی مالیت کے تیل سے لدا ہوا ہے۔

ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق پچیس ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن کمپنی نے اس خبر کی تردید کی ہے۔ اغوا شدہ جہاز صومالیہ کی ایک بندرگاہ کے قریب لنگر انداز ہے اور کہا جارہا ہے کہ جہاز کے عملے کے ساتھ اچھا سلوک کیا جارہا ہے۔

اس دوران میں سعودی عرب، یمن، اردن صومالیہ اور مصر کے سینیئر سرکاری عہدے داروں کا ہنگامی اجلاس قاہرہ میں ہوا جس میں اس بات پر فکر مندی ظاہر کی گئی کہ قزاقی کا معاملہ اب قابو سے باہر ہو چکا ہے۔ سعودی جہاز سیریئس سٹار کے اغوا کے بعد سے کم سے کم تین اور جہاز اغوا کیے گئے ہیں۔

متبادل راستہ
 مصر کو خاص طور اس معاملے کو حل کرنے میں دلچسپی ہے کیونکہ جہاز راں کمپنیاں نہر سویز کا راستہ چھوڑنے کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ ایس کرنے سے نہ صرف یورپ سے ایشیا تک کا سفر کئی ہفتے طویل ہو جائے گا بلکہ اس سے اشیاء کی قیمتیں بھی بڑی جائیں گی
مصر کو خاص طور اس معاملے کو حل کرنے میں دلچسپی ہے کیونکہ جہاز راں کمپنیاں نہر سویز کا راستہ چھوڑنے کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ ایس کرنے سے نہ صرف یورپ سے ایشیا تک کا سفر کئی ہفتے طویل ہو جائے گا بلکہ اس سے اشیاء کی قیمتیں بھی بڑی جائیں گی۔

نیٹو کی کمان نے اعلان کیا ہے جب تک یورپی بحری بیڑہ تیار نہیں ہو جاتا اس وقت تک بحیرہ عدن میں وہ اپنے جنگی جہازوں کی کارروائی میں اضافہ کر دے گی اور کل نیٹو کے دو جنگی جہاز صومالیہ جانے والے امدادی جہاز کے ساتھ پہرہ دینے کے لیے روانہ ہوگئے جن ایک ترک جہاز بھی شامل تھا۔

نامہ نگاورں کا کہنا ہے کہ سعودی جہاز کو اغوا کرنے والے بہت ہی ماہر قزاق ہیں جن کے دبئی اور قریبی ممالک میں رابطے ہیں۔ اس سے پہلے اغوا کیے گئے جہازوں سے حاصل ہونے والے پیسے سے نئی کشتیاں اور اسلحہ خریدا گیا اور قزاقوں نے قرنِ افریقہ میں اپنا جال پھیلایا۔

بی بی سی افریقہ کے مدیر نے کہا کہ اس وقت خطے کے پانیوں میں تجارتی جہازوں کے ساتھ بحریہ کے کانوائے روانہ کرنے کا نظام قائم نہیں ہے۔ بھارتی اور روسی جہاز اس خطے میں آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں جبکہ نیٹو اور امریکی بحریہ مل کر تجارتی جہازوں سے رابطے میں رہتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ وہ انہیں بچا سکتے ہیں۔ یورپی یونین کی طرف سے دسمبر میں بحریہ کی ٹاسک فورس کی روانگی متوقع ہے۔

اسی بارے میں
سعودی جہاز صومالی ساحل پر
18 November, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد