دو مزید بحری جہاز ہائی جیک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بحری قزاق سعودی عرب کے ہائی جیک کیے جانے والے آئل ٹینکر کو صومالیہ کے ساحل پر لے آئے ہیں لیکن اس واردات کے علاوہ منگل کو بحری جہاز اغوا ہونے کی دو مزید وارداتیں ہوئی ہیں۔ سایرس سٹار نامی سعودی آئل ٹینکر کے عملے کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ سب کے سب محفوظ ہیں۔اس جہاز میں دو ملین بیرل تیل ہے جس کی قیمت سو ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ ادھر منگل کو ملنے والی خبروں کے مطابق ایک اور بحری جہاز اور ایک مچھلیاں پکڑنے کے لیے استعمال ہونے والا چھوٹا جہاز بھی ہائی جیک ہوگئے ہیں۔ اس علاقے میں ہائی جیک ہونے والے جہازوں کی تعداد اب نوے ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی میریٹائم بیورو کے مطابق ہانگ کانگ کا جہاز منگل کی صبح خلیجِ عدن میں اغوا کیا گیا۔ چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ جہاز جس میں عملے کے پچیس ارکان تھے ایران کے لیے گندم لے جا رہا تھا۔ اغوا ہونے والا دوسرا جہاز کیریباتی میں رجسٹرڈ تھا اور اس میں عملے کے بارہ ارکان تھے۔ اس جہاز کے مالکان کا رابطہ عملے سے تقریباً بارہ گھنٹے قبل منقطع ہو گیا تھا۔ سعودی جہاز کے مالکان کا کہنا ہے کہ وہ قزاقوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور جہاز کا پچیس رکنی عملہ محفوظ ہے۔ خیال ہے کہ بحری قزاق بہت زیادہ تاوان کا مطالبہ کریں گے۔ سعودی حکام نے جہاز کے اغوا کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بحری قزاقی اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا کہ دہشت گردی۔ امریکی نیوی نے کہا ہے کہ وہ علاقے میں موجود تمام جہازوں کو سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی لہذا جہاز مالکان خود حفاظت کا انتظام کریں۔ ’سیریس سٹار‘ نامی یہ ٹینکر اغوا کیا جانےوالا اب تک کا سب سے بڑا بحری جہاز ہے۔ ٹینکر میں بیس لاکھ بیرل تیل لدا ہوا ہے جو سعودی عرب کی یومیہ پیداوار کا تقریباً ایک تہائی ہے اور جس کی قیمت سو ملین ڈالر سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ قزاقوں نے ٹینکر پر سنیچر کو کینیا کے ساحل سے تقریباً آٹھ سو کلومیٹر دور قبضہ کر لیا تھا۔ امریکی بحریہ کے مطابق قزاقوں کی جانب سے اتنے بڑے پیمانےپر پہلے کبھی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ امریکی افواج کے سربراہ ایڈمیرل مائک مولن کے مطابق قزاقوں نے جس انداز میں جہاز کو اغوا کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کو تربیت یافتہ ہیں۔ واشنگٹن میں محکمہ دفاع کی ایک بریفنگ میں انہوں نےکہا کہ ’ وہ جو کچھ کرتے ہیں اس میں انہیں مہارت حاصل ہے۔‘ ’ایک بار وہ جہاز پر سوار ہوجائیں تو انہیں ہٹانا بہت مشکل ہوجاتا ہےکیونکہ وہ عملے کو یرغمال بنالیتے ہیں۔
ان خطرناک قزاقوں کی موجودگی کے سبب صومالیہ کا سمندر غیر محفوط ترین آْبی گزرگاہ بن گیا ہے۔ بین الاقوامی کوششوں کے باوجود اس علاقے میں ماہی گیروں کی کشتیوں، مال بردار جہاز اور دیگر کشتیوں پر حملوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ صومالیہ پچھلے دو دہائیوں سے مضبوط حکومت کے بغیر ہے اور عبوری حکومت ملک کے بڑے علاقے کو کنٹرول نہیں کر پا رہی ہے جہاں پر وار لارڈز کی من مانی چل رہی ہے۔ صومالیہ کے سمندر سے ایک اہم ترین بحری راستہ گزرتا ہے۔ ایشیا سے مغرب کی طرف سفر کرنے والے جہاز خلیج سےگزر کریورپ جاتے ہیں۔ کئی جہاز بحیرہ احمر سےنکل کر صومالی پانی سے ہوتے ہوئے ایشیا کا رخ کرتے ہیں۔ اس تازہ واقعہ کی خبر پھیلتے ہیں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ بی بی سی کے نانہ نگار فرینک گارڈنر کے مطاق قزاقوں نےصومالی سمندر سے اتنی دور پہلی مرتبہ کارروائی کی ہے جو حیرت کی بات ہے۔ اب تک اغوا کے واقعات مذاکرات کے ذریعہ پر امن طور پر حل کیے گئے ہیں لیکن فرینک گارڈنر کا خیال ہے کہ اس مرتبہ فوجی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔ سمدری قزاق تاوان وصول کرنے کے لیے جہاز اغوا کرتے ہیں جس کی وجہ سے کئی ملکوں نے اپنے جنگی بحری جہاز اس علاقے میں بھیجے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود قزاقوں نے کئی جہازوں کو کئی مہینوں سے اغوا کر رکھا ہے۔ | اسی بارے میں صومالیہ کے خطرناک سمندری قزاق24 April, 2008 | آس پاس اہم صومالی رہنما نے ہتھیار ڈال دیے22 January, 2007 | آس پاس صومالیہ: امریکی حملہ، متعدد ہلاک01 May, 2008 | آس پاس صومالیہ - مشرقی افریقہ کا افغانستان؟03 May, 2008 | آس پاس سترہ ملین افریقی امداد کے منتظر20 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||