پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کی یاد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر میں منگل کو نوے سال قبل پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کی یاد منائی جا رہی ہے۔ جرمنی اور اتحادیوں کے درمیان چار سال تک خندقوں میں لڑی گئی اس جنگ میں، جس نے یورپ کا نقشہ بدل دیا، دو کروڑ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ جنگ کے خاتمے کی یاد میں ایک بڑی تقریب فرانس کے شمال مشرقی علاقے وردون میں ہو رہی ہے جہاں جرمن اور فرانسیسی فوجوں کے درمیان آٹھ ماہ تک لڑائی ہوئی۔ ٹھیک گیارہ بج کر گیارہ منٹ پر خاموشی اختیار کی گئی۔ یاد رہے کہ جنگ عظیم کے خاتمے کا اعلان گیارہویں مہینے کے گیارہویں گھنٹے کے گیارہویں منٹ میں ہوا تھا۔ وردون میں ہونے والی یہ لڑائی جنگ عظیم کی سب سے طویل لڑائی تھی اور اب وردون جرمنی اور فرانس کے درمیان صلح کی علامت بن چکا ہے۔
وردون میں ہونے والی تقریب میں برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس اور ان کی اہلیہ کمیلا پارکر اور فرانس کے صدر نکولا سارکوزی شرکت کر رہے ہیں۔ تقریب کے مقام کے قریب ہی وہ جگہ ہے جہاں جنگ میں ہلاک ہونے والے ایک لاکھ تیس ہزار لوگوں کی ہڈیاں موجود ہیں۔ گیارہ بج کر گیارہ منٹ پر خاموشی کے بعد گھنٹیاں بجائی گئیں اور تقریب کے شرکاء عمارت میں داخل ہو گئے۔ اس سے قبل آسٹریلیا میں بھی تقاریب ہوئیں۔ جنگ میں آسٹریلیا کے ساٹھ ہزار شہری ہلاک ہوئے تھے۔ برطانیہ میں پہلی جنگ عظیم میں حصہ لینے والے اب بھی موجود چار میں سے تین فوجی یادگاری تقاریب کا حصہ ہوں گے۔ ان میں سب سے بڑی عمر کے ہنری ایلنگہم ہیں جو ایک سو بارہ سال کے ہیں۔ ان کے علاوہ ہیری پیچ ایک سو دس سال اور بِل سٹون ایک سو آٹھ سال کے ہیں۔ خندقوں کی جنگ میں حصہ لینے والے ہیری پیچ یادگاری دستاویز پڑھ کر سنائیں گے۔ پہلی جنگ عظیم میں چار یورپی سلطنتیں ختم ہوئیں، سوویت یونین بن گیا اور دنیا پر یورپ کی طویل ترین بالادستی ختم ہو گئی۔ | اسی بارے میں جنگ عظیم: ہندوستان کا کردار بھلا دیا گیا10 July, 2005 | آس پاس جنگ عظیم کے 67 برس بعد واپسی02 July, 2006 | آس پاس جنگ عظیم اول کے آخری سپاہی کا انتقال26 January, 2008 | آس پاس امریکہ،یورپ: جنگ مخالف مظاہرے18 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||