امریکہ،یورپ: جنگ مخالف مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی کارروائی کے چار سال کی تکمیل کا دن قریب آتے ہی دنیا بھر میں جنگ مخالف مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ واشنگٹن میں ایک ایسی ہی ریلی میں سخت سردی کے باوجود ہزاروں افراد نے امریکی محکمۂ دفاع کی عمارت تک مارچ کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر جنگ مخالف نعرے درج تھے۔واشنگٹن کے علاوہ لاس اینجلس، یورپی ممالک کے صدر مقامات اور آسٹریلیا میں بھی جنگ مخالف ریلیاں اور جلوس نکالے گئے۔ عراق میں امریکی مداخلت کے چار سال منگل بیس مارچ کو پورے ہو رہے ہیں اور ان چار سال کے دوران عراق میں پرتشدد کارروائیوں میں ہزاروں عراقی اور تین ہزار دو سو امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔ واشنگٹن کے مظاہرے میں شریک جنگ مخالف کارکن سنڈی شیہان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی دنیا بھر میں موت اور تباہی تقسیم کر رہے ہیں اور اس سلسلے کو بند کرنے کی ضرورت ہے۔ لاس اینجلس پولیس کے مطابق وہاں ہونے والے مظاہرے میں قریباً چھ ہزار افراد شریک تھے۔ یورپ میں سب سے بڑے مظاہرے سپین میں ہوئے جہاں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ افراد احتجاج میں شریک ہوئے۔ دارالحکومت میڈرڈ میں مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے امریکی صدر بش اور سابق ہسپانوی وزیراعظم ہوزے ماریا ازنار کو’جنگی مجرم‘ قرار دیا۔ | اسی بارے میں انخلاء کا منصوبہ، ویٹو کریں گے: بش08 March, 2007 | آس پاس عراق جنگ کیخلاف واشنگٹن احتجاج28 January, 2007 | آس پاس مزید فوج عراق بھیجنے کی مخالفت18 January, 2007 | آس پاس لندن میں مظاہرہ، ٹونی بلیئر پر تنقید05 August, 2006 | آس پاس نیویارک میں جنگ مخالف ریلی30 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||