بغداد: تین دھماکے، اٹھائیس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کےدارالحکومت بغداد میں یکے بعد دیگرے تین بم دھماکوں میں اٹھائیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پہلے دو دھماکے کار بم تھے جبکہ تیسرا دھماکہ ایک خودکش حملہ آور نے اس کے تھوڑی ہی دیر بعد اس وقت کیا جب لوگ زخمیوں کی مدد کے لیے جمع ہوئے۔ اس واقعے میں اڑسٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ عراق میں جنگجوؤں یکے بعد دیگرے بم حملوں کی حکمت عملی کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس سے جانی نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بعقوبہ میں ایک خاتون خودکش بمبار نے کار کے ذریعے ملیشیا کی ایک چوکی پر حملہ کیاجس میں چھ لوگ ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ پچھلے مہینوں میں سب سے بدترین ہے۔ واضح رہے کہ پچھلے دو سالوں میں پرتشدد واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے، تاہم بغداد میں حملوں میں گزشتہ چند ہفتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بغداد میں ہونے والے ان حملوں میں زیادہ تر سرکاری اہلکار، پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکار اور الصبح دفتر جانے والے لوگ شکار ہوتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’نیا معاہدہ نہیں‘ عراق کو وارننگ22 October, 2008 | آس پاس عراق:’طاقت،وسائل کی جنگ جاری‘01 October, 2008 | آس پاس عراق بم حملوں میں بتیس ہلاک29 September, 2008 | آس پاس عراق میں اہم القاعدہ رہنما ہلاک15 October, 2008 | آس پاس عراق: دو امریکی ہیلی کاپٹر تباہ04 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||