ایران پر پابندیاں، نئی قرارداد منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیوں کی ایک نئی قرارداد اتفاقِ رائے سے منظور کر لی ہے۔ اس قرارداد میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق پچھلی قراردادوں کی توثیق کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جوہری توانائی کے نگران ادارے آئی اے ای اے سے مکمل تعاون کرے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی قرارداد میں پرانی قراردادوں کے ذریعے عائد شدہ پابندیوں کو ہی دہرایا گیا ہے اور کسی نئی پابندی کا کوئی ذکر نہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی یہ مختصر سی قراداد دراصل ایک تصفیہ ہے۔ اس قرارداد کا مسودہ گزشتہ ہفتے تیار کیا گیا تھا کیونکہ روس نے اعلان کر دیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف کسی سخت اقدام کی حمایت نہیں کرے گا۔ لہذا بجائے اس کے کہ ایران پر مزید سخت پابندیوں کی بات کی جاتی، اس نئی قرار داد میں پرانی قراردادوں کے متن کو دہرایا گیا ہے۔ گویا اس قرارداد کے ذریعے ایک طرح سے ایرانی حکومت کو ایک یاد داشت پیش کی گئی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ اس قرارداد میں کوئی تنبیہہ نہیں ہے کہ اگر ایران نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو اسے سزا دی جائے گی یا مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ لیکن اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے مستقل مندوب زلمے خلیل زاد نے اس قرار داد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جارجیا کے تنازعے سے روس اور مغرب کے درمیان اختلافات کے باوجود یہ سب ایران کے معاملے پر متحد ہیں۔ روسی سفیر نے دعوی کیا ہے کہ اس قرارداد میں روسی سوچ پنہاں ہے اور وہ یہ کہ ایران کے جوہری معاملے کا حل سیاسی کوششوں میں ہے نہ کہ فوجی کارروائی میں۔ گزشتہ ہفتے روس نے ایران پر عالمی طاقتوں کے مذاکرات سے یہ کہہ کر علیحدگی اختیار کر لی تھی کہ ابھی پابندیاں عائد کرنے کا وقت نہیں آیا۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ اور یورپ نے خفت سے بچنے کے لیے سخت گیر قرارداد چھوڑ کر تصفیے والی ایک قرارداد پر اکتفا کر لیا ہے تاکہ ایران کو یہ تاثر ملے کہ اگر وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر توجہ نہیں دے گا تو وہ الگ تھلگ ہی رہے گا۔ |
اسی بارے میں ایران پر پابندیوں کی قرارداد مؤخر28 September, 2007 | آس پاس ایران کو افزودہ یورینیم کی پیشکش02 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||