BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 September, 2008, 02:59 GMT 07:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یورپ،جورجیا کا مشورہ درکار نہیں‘
روسی وزیراعظم
روسی وزیراعظم کا بیان جنگ بندی معاہدے سے مطابقت نہیں رکھتا
روس نے کہا ہے کہ اسے جنوبی اوسیٹیا اور ابخازیہ میں تعینات فوجیوں کی تعداد کے تعین کے لیے مغربی ممالک یا جورجیا کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔

روسی وزیراعظم ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ اس بات کا فیصلہ روس اور متعلقہ ’ریاستیں‘ کریں گی۔ روس نے جورجیا سے تنازعہ کے بعد ان دونوں علاقوں کی خودمختاری کو تسلیم کر لیا تھا۔

روسی وزیراعظم نے روسی ٹی وی پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ جیسا آپ جانتے ہیں ہم نے جنوبی اوسیٹیا اور ابخازیہ کی آزادی کو اسی طرح تسلیم کیا جس طرح بہت سے یورپی ممالک نے کوسوو کی آزادی کو تسلیم کر لیا تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’ہماری مسلح افواج کی ان علاقوں میں موجودگی بین الاقوامی قوانین کے تحت اور روس اور ان ریاستوں کے درمیان ہونے والے دو طرفہ معاہدوں کی بنیاد پر طے کی جائے گی‘۔

انہوں نے یہ بیان اپنے فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات کے بعد دیا۔روسی وزیراعظم کا یہ بیان بظاہر روس جورجیا تنازعہ کے خاتمے کے لیے ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

اس معاہدے کے تحت روس اس بات پر تیار ہو گیا تھا کہ اس کے فوجی تنازعے کے آغاز سے پہلے کی پوزیشنوں پر واپس چلے جائیں گے۔روس پہلے ہی جنوبی اوسیٹیا اور ابخازیہ میں آٹھ ہزار فوجی تعینات کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد