’یورپ،جورجیا کا مشورہ درکار نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس نے کہا ہے کہ اسے جنوبی اوسیٹیا اور ابخازیہ میں تعینات فوجیوں کی تعداد کے تعین کے لیے مغربی ممالک یا جورجیا کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ روسی وزیراعظم ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ اس بات کا فیصلہ روس اور متعلقہ ’ریاستیں‘ کریں گی۔ روس نے جورجیا سے تنازعہ کے بعد ان دونوں علاقوں کی خودمختاری کو تسلیم کر لیا تھا۔ روسی وزیراعظم نے روسی ٹی وی پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ جیسا آپ جانتے ہیں ہم نے جنوبی اوسیٹیا اور ابخازیہ کی آزادی کو اسی طرح تسلیم کیا جس طرح بہت سے یورپی ممالک نے کوسوو کی آزادی کو تسلیم کر لیا تھا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہماری مسلح افواج کی ان علاقوں میں موجودگی بین الاقوامی قوانین کے تحت اور روس اور ان ریاستوں کے درمیان ہونے والے دو طرفہ معاہدوں کی بنیاد پر طے کی جائے گی‘۔ انہوں نے یہ بیان اپنے فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات کے بعد دیا۔روسی وزیراعظم کا یہ بیان بظاہر روس جورجیا تنازعہ کے خاتمے کے لیے ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ اس معاہدے کے تحت روس اس بات پر تیار ہو گیا تھا کہ اس کے فوجی تنازعے کے آغاز سے پہلے کی پوزیشنوں پر واپس چلے جائیں گے۔روس پہلے ہی جنوبی اوسیٹیا اور ابخازیہ میں آٹھ ہزار فوجی تعینات کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ | اسی بارے میں ’روس تنہائی کے یکطرفہ راستے پر‘19 September, 2008 | آس پاس جورجیا سے روسی فوج کا انخلاء13 September, 2008 | آس پاس جورجیا، ایک ارب ڈالر کی امداد04 September, 2008 | آس پاس روسی’جارحیت‘پر برطانوی تنبیہ31 August, 2008 | آس پاس جورجیا: ای یو میں اختلافات کے آثار31 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||