پاؤڈر کے بعد اب مائع دودھ بھی آلودہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں حکام کا کہنا ہے کہ پاؤڈر دودھ کے بعد اب مائع دودھ میں بھی کیمیائی مادے میلامائن کے اثرات ملے ہیں۔ چین میں اشیائے خودرونوش کی کوالٹی کا جائزہ لینے والے ادارے کے انسپکٹرز کا کہنا ہے کہ تین ڈیری فارمز سے حاصل کردہ دودھ کے نمونوں میں سے دس فیصد میلامائن سے آلودہ ہے۔ ادارے کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ ملک کے دو بڑے ڈیری گروپس’مینگنیو ڈیری گروپ‘ اور ’ییلی انڈسٹریل گروپ‘ سے حاصل کیے جانے والے دودھ کی دس فیصد مقدار میں آٹھ اشاریہ چار ملی گرام فی کلوگرام کے حساب سے میلامائن موجود تھا۔ ویب سائٹ کے مطابق شنگھائی سے تعلق رکھنے والی برائٹ ڈیری کے نمونوں میں بھی ملاوٹ کے ثبوت ملے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ دودھ سپلائی کرنے والوں نے میلامائن کی ملاوٹ دودھ کو زیادہ پروٹین والا ظاہر کرنے کے لیے کی تھی۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس ملاوٹ کی وجہ جان کر اس کے ذمہ دار افراد کو کڑی سزا دیں گے۔ چین میں پولیس نے اب تک آلودہ دودھ سکینڈل سے جڑے اٹھارہ افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے بارہ کو جمعرات کو ہیبئی صوبے سے دودھ کی فراہمی میں ملوث ہونے کے شک پر حراست میں لیا گیا۔ ہیبئی صوبے میں ہی بچوں کے لیے متاثرہ دودھ بنانے والی کمپنی سانلو گروپ کا مرکزی دفتر ہے۔ میلامائن سے آلودہ دودھ کا سکینڈل گزشتہ ہفتے اس وقت سامنے آیا تھا جب سانلو گروپ نے اس بات کا اعترف کیا تھا کہ اس نے میلامائن ملا دودھ فروخت کیا ہے۔بعد ازاں چین کے سرکاری ٹیلی ویژن پر بتایا گیا کہ ملک پاؤڈر کے بائیس برانڈوں میں کیمیائی مادہ میلامائن موجودہ پایا گیا ہے۔ چین میں حکام نے آلودہ پاؤڈر دودھ سے متاثرہ بچوں کی تعداد چھ ہزار دو سو سے زیادہ بتائی تھی جبکہ چین کے وزیر صحت چن ژو کے مطابق اب تک اس دودھ کے استعمال کے نتیجے میں چار بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ چن ژو کا کہنا ہے کہ آلودہ پاؤڈر ملک پینے سے بیمار ہونے والے بچوں کی تعداد چھ ہزار دو سو چوالیس ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ان بچوں میں سے 158 ایسے بچے ہیں جن کےگردے ناکارہ ہو چکے ہیں۔ | اسی بارے میں ُچین: آلودہ دودھ سے چھ ہزار بچے متاثر17 September, 2008 | آس پاس ’ہلاک شدگان تقریباً 40 ہزار‘20 May, 2008 | آس پاس چین: مزید طوفان کی پیشنگوئی02 February, 2008 | آس پاس سستے ملبوسات کا دور خاتمے کے قریب 24 April, 2008 | آس پاس ’کھیلوں کو سیاسی رنگ نہ دیں‘02 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||