شٹل کی مدت پرواز بڑھانے کی امید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی ادارہ ناسا اطلاعات کے مطابق اپنے خلائی جہازوں یا شٹلز کی سن دو ہزار دس میں ختم ہونے والے پراوز کی عمر کو مزید پانچ سال بڑھانے پر تحقیق کرے گا۔ ایجنسی اس امر پر غور کرے گی کہ خلاء میں پرواز کرنے کی ان کی عمر کو بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیئے جا سکتے ہیں اس سے قبل ازیں کہ اس کے نئے خلائی جہاز ایرس اور اوریئن سن دو ہزار پندرہ میں اپنی خلائی پرواز شروع کریں۔ یہ ساری تیاری ناسا کے اہلکار کانگریس اور آنے والے صدر کی طرف سے ممکنہ طور پر پوچھے جانے والے سوالوں کا اطمینان بخش جواب دینے کے لیے کر رہے ہیں۔ یہ اطلاع فلوریڈا کے ایک مقامی اخبار کو اپنے ذرائع سے حاصل کی گئی ایک ای میل کے ذریعے ملی ہے۔ ناسا کے سربراہ مائیکل گریفن جنہوں نے اس تحقیق کی منظوری دی ہے ماضی میں ناسا کے زیر استعمال خلائی جہازوں کو مقررہ مدت کے بعد بھی خلاء میں بھیجنے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ ایجنسی کے انتظامی اہلکاروں کا خیال ہے کہ موجودہ خلائی جہازوں کی مدت میں اضافہ کرنے کے پروگرام پر صرف کیئے جانے والے پیسے اور وقت سے نئے راکٹ ایرس اور اپالو کے اسٹائل کے خلائی کیپسول بنانے کے پروگرام پر اثر پڑے گا۔ یہ نئے خلائی جہاز ناسا کے کہکشاؤں کے پروگرام کے تحت بنائے جا رہے ہیں۔ صدر بش نے سن دو ہزار چار میں یہ اعلان کیا تھا کہ کہکشاؤں کے پروگرام کے تحت ایک نظام بنایا جائے گا جو خلاء بازوں کو خلائی دریافت کے پلان کے مطابق چاند پر لیے جائے گا۔ اس سال اپریل میں ڈاکٹر گریفن نے سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا تھا کہ موجودہ شٹل کا ڈیزائن خطرے سے پاک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مشن سے پہلے کسی تباہ کن حادثے کے پیش آنے کا امکان پچھہتر میں ایک ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں موجودہ خلائی جہاز کی مدتِ پرواز مزید پانچ سال تک بڑھائی جائے تو اس کا مطلب ہو گا کہ ہر سال میں دو مشن کیئے جائیں گے۔ اس طرح کسی حادثے کے پیش آنے کا خطرہ پچھہتر میں ایک سے بڑھ کر بارہ میں ایک ہو جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||