قندھار میں جھڑپیں، متعدد ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق جنوبی افغانستان کے صوبے قندھار میں فوج اور مشتبہ طالبان کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے جس میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی آبادی اور حکومتی اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پنجوائی ضلع میں تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جس میں زیادہ تعداد شدت پسندوں کی ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق کئی خاندان پنجوائی سے نکل کر قندھار شہر چلے گئے ہیں جبکہ لڑائی والی جگہ کو بین الاقوامی اور افغان فوج نے گھیر ے میں لے لیا ہے۔ ادھر افغان حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی حصہ میں ہونے والے ایک دھماکے میں چھ افغان محافظ ہلاک ہو گئے ہیں۔اس واقعے میں دو محافظ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ صوبہ ہلمند میں سڑک کے کنارے نصب بم کا شکار بننے والے یہ افراد عالمی اتحادی فوج کے لیے رسد لے جانے والے ایک قافلے کی حفاظت پر مامور تھے۔ ہلمند کے پولیس سربراہ محمد حسین اندیوال کے مطابق یہ واقعہ گرشک ضلع میں پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد ایک امریکی سکیورٹی کمپنی کے ملازم تھے۔ ماضی میں بھی افغانستان میں طالبان کی جانب سے عالمی افواج کے لیے رسد لے جانے والے قافلوں پر حملے کیے جاتے رہے ہیں جن میں متعدد بار جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ | اسی بارے میں نو امریکی فوجی ہلاک13 July, 2008 | آس پاس امریکی حملہ، نشانہ بنے بچے، عورتیں11 July, 2008 | آس پاس افغانستان دھماکہ، اکیس ہلاک13 July, 2008 | آس پاس افغانستان: ہلاکتیں، متضاد اطلاعات05 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||