’فلسطینی ریاست اسرائیلی مفادمیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے کہا ہے کہ فلسطین کی علیحدہ ریاست کا قیام ہی اسرائیل اور اس کے عوام کے بہتریں مفاد ہے۔ فرانس کی طرف سے کسی حکمراں کے گزشتہ بارہ سال میں اسرائیل کے پہلے دورے کے دوران نکولس سرکوزی نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدے سے دونوں اقوام کے لوگ امن اور محفوظ رہ سکیں گے۔ نکولس سرکوزی اس دورے کے دوران اسرائیل اور فلسطین کے رہنماوں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔ اسرائیل کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اتوار کو خوراک اور دیگر اشیاء سے لدے ہوئے نوے ٹرکوں کو صوفا کے راستے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ عام طور پر ساٹھ ٹرکوں کو جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق نکولس سرکوزی کا اسرائیل کی طرف جھکاؤ اپنے پیش رؤ ژاک شیراک کے اسرائیل کے بارے میں خیالات سے بالکل برعکس ہے۔ ژاک شیراک کو عرب نواز تصور کیا جاتا تھا۔ نکولس سرکوزئی کا جو اپنی بیوی کارلا برونی کے ہمراہ تل ابیب کے قریب بن گوریان کے ہوائی اڈے پر پہنچے تھے اسرائیل کے صدر شمعون پیریز اور وزیراعظم ایہود اولمرت نے استقبال کیا۔ ہوائی اڈے پر اپنے خطاب میں سرکوزی نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے اسرائیل کے دوست تھے اور ہمیشہ دوست رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ کل ہی ہو سکتا ہے اور اس معاہدے سے دونوں طرف سے لوگ سکھ اور چین سے رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پہلے سے زیادہ اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ علیحدہ فلسطین کی ریاست کا قیام ہی اصل میں اسرائیل کے استحکام کی مستقل گارنٹی مہیا کر سکتی ہے۔ فرانس کے صدر سوموار کو اسرائیلی پارلیمنٹ کنسٹ سے خطاب کرنے والے ہیں۔ نکولس سرکوزی منگل کو بیت الیہم جائیں گے جہاں ان کی ملاقات فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے متوقع ہے۔ | اسی بارے میں ایران پر حملے کی اسرائیلی دھمکی06 June, 2008 | آس پاس ’اسرائیلی فوجی کا دوسال بعد خط‘10 June, 2008 | آس پاس حماس، اسرائیل جنگ بندی معاہدہ17 June, 2008 | آس پاس اسرائیل، حماس جنگ بندی کا آغاز19 June, 2008 | آس پاس ایران پرحملے کی ’پیشگی‘ مشق 20 June, 2008 | آس پاس اسرائیل کا حملہ ناممکن: ایران22 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||