عراقی افواج کا عمارہ پر کنٹرول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی افواج عمارہ شہر میں گھس گئی ہیں جہاں شعیہ رہمنا مقتدی الصدر کی حامی ملیشیا، مہدی آرمی نے مزاحمت نہیں کی ہے۔ عراقی سکیورٹی فورسز نے چند ماہ پہلے بصرہ میں اسی طرح کا ایک آپریشن تھا جس کے دوران حکومتی فورسز کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ عراقی حکومت کے اہلکاروں کے مطابق عراقی سکیورٹی فورسز کے دستے پورے شہر میں پھیل رہے ہیں اور شہر کے مختلف حصوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ عراقی سکیورٹی فورسز نے شہر کے میئر رفیع عبدل جبار کو گرفتار کر لیا ہے۔ مئیر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ شیعہ رہنماء مقتدی الصدر کے حامی ہیں۔عراقی حکومت نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شہر سے اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔ سن دو ہزار تین میں عراق پر امریکہ اور برطانیہ کے حملے بعد عمارہ شہر برطانوی فوج کے قبضے میں تھا جسے ایک سال پہلے عراقی سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا گیا۔ عمارہ شہر میں امن عامہ کی صورتحال مخدوش رہی ہے اور یہ شہر مقتدی الصدر کے حامیوں کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ ڈھائی لاکھ کی آبادی کا شہر عمارہ اسلحہ کی مارکیٹ تصور کیا جاتا ہے ۔ عمارہ ایرانی سرحد کے قریب واقع ہے۔ مقتدی الصدر کی جماعت نے عمارہ شہر کے میئر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عراقی فورسز مقتدی الصدر کے حامیوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ الصدر کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی حمایت کرتے ہیں لیکن وہ شہر کے میئر کی گرفتاری کے خلاف ہیں۔ | اسی بارے میں عراق میں نئے آپریشن کی تیاری15 June, 2008 | آس پاس بصرہ کا انتظام عراقی فوج کےحوالے16 December, 2007 | آس پاس بصرہ کی سکیورٹی سےدستبردار16 December, 2007 | آس پاس مقتدیٰ الصدر کی جانب سے فائربندی30 March, 2008 | آس پاس عراق: بصرہ میں فضائی حملہ03 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||