عراق میں نئے آپریشن کی تیاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں حکام نے جنوب میں امارہ کے شہر میں شیعہ جنگجؤوں کے خلاف ایک نئے آپریشن کے لئے عراقی پولیس اور فوجی دستے بھیجے ہیں جنہیں امریکی فوج کی مدد حاصل ہے۔ عراقی فورسز کے ٹینک شہر کے کئی علاقوں میں گشت کررہے ہیں جبکہ مختلف مقامات پر چیک پوسٹس بھی قائم کی گئیں ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق یہ نیا آپریشن وزیراعظم نوی مالکی کی طرف سے اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی ایک کی کوشش ہے۔ مارچ کے مہینے میں بصرہ سے شروع ہونے والی لڑائی میں، جو بغداد تک پھیل گئی تھی، سینکروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے اپنی مہدی ملیشیا کو جنگ بندی کا حکم دیا تھا لیکن حکام کا کہنا ہے کہ شیعہ جنگجؤوں کی طرف سے حملے ابھی تک جاری ہیں۔ میسان صوبے کے دارلحکومت امارہ میں ہیلی کاپٹر سے پمفلٹ گرائے گئے ہیں جن میں شہریوں کو گھروں میں رہنے اور آپریشن میں مداخلت نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ امریکی فوج کے ایک ترجمان نے آپریشن کی تفصیلات دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی عراقی حکام خود کررہے ہیں۔ برطانوی فوج نے میسان صوبے کا کنٹرول اپریل دو ہزار سات میں عراقی فورسز کے حوالے کردیا تھا لیکن نامہ نگاروں کے مطابق وہاں تشدد کے واقعات اب تک جاری ہیں۔ | اسی بارے میں خفیہ فائل: انکوائری سے پہلے معطلی12 June, 2008 | آس پاس عراق: فوجی انخلاء کا فیصلہ متوقع10 June, 2008 | آس پاس عراق:امریکی فوجی چوکی پر حملہ09 June, 2008 | آس پاس ایران کو عراق سے خطرہ نہیں: مالکی 08 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||