BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 June, 2008, 03:37 GMT 08:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں نئے آپریشن کی تیاری
امارہ
عراقی فورسز کے ٹینک شہر کے کئی علاقوں میں گشت کررہے ہیں۔
عراق میں حکام نے جنوب میں امارہ کے شہر میں شیعہ جنگجؤوں کے خلاف ایک نئے آپریشن کے لئے عراقی پولیس اور فوجی دستے بھیجے ہیں جنہیں امریکی فوج کی مدد حاصل ہے۔

عراقی فورسز کے ٹینک شہر کے کئی علاقوں میں گشت کررہے ہیں جبکہ مختلف مقامات پر چیک پوسٹس بھی قائم کی گئیں ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق یہ نیا آپریشن وزیراعظم نوی مالکی کی طرف سے اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی ایک کی کوشش ہے۔

مارچ کے مہینے میں بصرہ سے شروع ہونے والی لڑائی میں، جو بغداد تک پھیل گئی تھی، سینکروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے اپنی مہدی ملیشیا کو جنگ بندی کا حکم دیا تھا لیکن حکام کا کہنا ہے کہ شیعہ جنگجؤوں کی طرف سے حملے ابھی تک جاری ہیں۔

میسان صوبے کے دارلحکومت امارہ میں ہیلی کاپٹر سے پمفلٹ گرائے گئے ہیں جن میں شہریوں کو گھروں میں رہنے اور آپریشن میں مداخلت نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

امریکی فوج کے ایک ترجمان نے آپریشن کی تفصیلات دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی عراقی حکام خود کررہے ہیں۔

برطانوی فوج نے میسان صوبے کا کنٹرول اپریل دو ہزار سات میں عراقی فورسز کے حوالے کردیا تھا لیکن نامہ نگاروں کے مطابق وہاں تشدد کے واقعات اب تک جاری ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد