BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 June, 2008, 23:20 GMT 04:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زِمبابوے، اپوزیشن رہنما کی رہائی
حزب اختلاف کے رہنما مورگن سوینگیرائی
مورگن سوینگیرائی صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں صدر مگابے کے مدِ مقابل ہیں
زمبابوے میں حزب اختلاف کے رہنما مورگن سوینگیرائی کو پولیس نے آٹھ گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔

مورگن سوینگیرائی کے ترجمان نے بتایا ہے کہ پولیس نے ان پر بغیر اجازت کے ایک جلسے سے خطاب کرنے اور امن عامہ خراب کرنے کا الزام لگایا تھا تاہم پولس نے ان پر فرد جرم عائد کیے بغیر رھا کر دیا۔

مورگن سوینگیرائی کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب ان کا قافلہ پولیس کے ناکے پر رُکا۔ انہیں زمبابوے کے مغرب میں واقع شہر لوپانے میں ایک پولیس تھانے میں رکھا گیا۔ ترجمان کے مطابق پولیس نے مسٹر سوینگیرائی کی بگتر بند گاڑی اپنی تحویل میں رکھ لی ہے۔

اپوزیشن رہنما مورگن سوینگیرائی ستائیس جون کو دوبارہ کرائے جانے والے صدارتی انتخابات میں صدر رابرٹ مگابے کے مد مقابل ہیں۔ جوہینسبرگ میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرولائن ہاؤلی کے مطابق مورگن سوینگیرائی کا اس وقت حراست میں لیے جانا اس ووٹ سے قبل حکومت کی اپوزیشن کو حراساں کرنے کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کا حصہ ہے۔

سوینگیرائی کی جماعت ’مؤمنٹ فار ڈیموکریٹک چینج‘ یعنی ’ایم ڈی سی‘ کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن کے لیے انتخابی مہم چلانا کتنا مشکل بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک امن فوج تعینات نہیں کی جاتی، اپوزیشن ایسی مہم نہیں چلا سکے گی اور منصفانہ و آزادانہ انتخابات بھی نہیں ہو سکتے۔

ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ حکومت کے سیاسی حملوں میں اس کے پینسٹھ حامیوں کو ہلاک کریا گیا ہے۔ حال میں ہونے والے ایک واقعے میں صدر مگابے کی حکمراں جماعت زانوپی ایف کے کارکنوں نے ایم ڈی سی کے دو حامیوں کو زندہ جلا دیا تھا۔

مگابے حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ حزب اختلاف والے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔

زمبابوے میں انتیس مارچ کے انتخابات میں مسٹر سوینگیرائی نے برتری حاصل تھی لیکن پچاس فیصد ووٹ حاصل نہ کر سکے جس کی وجہ سے اب ووٹنگ کا دوسرا مرحلہ کرانا پڑ رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد