’گیس پائپ لائن معاہدہ ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اپنے پاکستانی ہم منصب پرویز مشرف سے ایک گھنٹے سے طویل ملاقات میں اتفاق کیا ہے کہ سہ ملکی گیس پائپ لائن منصوبہ پر جلد از جلد تہران میں دستخط کر دیئے جائیں گے۔ یہ اتفاق رائے دونوں ہمسایہ ممالک کے صدور کے درمیان آج صبح ایوان صدر میں ہونے والے مذاکرات میں ہوا۔ اس سے قبل ایرانی صدر صرف چار گھنٹوں کے پاکستان کے اپنے پہلے دورے میں اسلام آباد پہنچے۔ ایوان صدر میں ہونے والے مذاکرات میں ایران نے پاکستان کو گیارہ سو میگا واٹ بجلی فروخت کرنے کی پیشکش بھی کی۔ پاکستان جنوبی بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے پہلے ہی ایران سے بجلی خرید رہا ہے۔ صدر پرویز مشرف کی مذاکرات میں معاونت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے علاوہ وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کی۔ ایرانی صدر کا دو ہزار پانچ میں منتخب ہونے کے بعد یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ ان کے ہمراہ نائب صدر اسفندیار رحیم، وزیر خارجہ منوچر متقی، وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر زرگر اور وزیر تجارت ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد میں مختصر قیام سری لنکا جاتے ہوئے کیا۔ محمود احمدی نژاد نے بعد میں وزیر اعظم سے بھی تفصیلی ملاقات کی۔ چکلالہ ائربیس پر ان کا استقبال وفاقی وزراء راجہ پرویز اشرف اور ہمایون عزیز کُرد نے کیا تاہم ان کا باضابطہ استقبال ایوان صدر میں صدر پرویز مشرف اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کیا۔ | اسی بارے میں پاک ایران انڈیا گیس لائن معاہدہ25 April, 2008 | پاکستان ’امریکی خط، دباؤ ناقابلِ برداشت‘04 May, 2007 | انڈیا ’گیس معاہدہ طے پانے کے قریب‘29 June, 2007 | انڈیا امریکی مشوروں کی ضرورت نہیں: انڈیا23 April, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||