BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 April, 2008, 09:41 GMT 14:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سعودی عورتوں کے حقوق پامال‘
سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سعودی عرب میں خواتین کے لیے محرم یا ’گارڈین شپ‘ کے نظام کی وجہ سے خواتین کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔

تنظیم کے مطابق سعودی عورتیں گھر کے کسی مرد کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتیں۔ انہیں کام کرنے، پڑھنے، سفر یا شادی کرنے اور یہاں تک طبی امداد حاصل کرنے کےلیے بھی اپنے باپ، شوہر یا بیٹے کی اجازت درکار ہوتی ہے اور وہ مستقل بچوں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

’سعودی حکومت خواتین پر مردوں کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے بنیادی انسانی حقوق قربان کر رہی ہے۔‘

 سعودی حکومت خواتین مر مردوں کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے بنیادی انسانی حقوق قربان کر رہی ہ
ہیومن رائٹس واچ

مشرق وسطی کے لیے ہیومن رائٹس واچ کی تحقحق کار فریدا ضیاف کہتی ہیں کہ جب تک یہ نامناسب پالیسیاں ختم نہیں ہوتیں، سعودی خواتین کوئی ترقی نہیں کر سکتیں۔

سعودی معاشرہ آج بھی ماضی کی روایات میں بندھا ہوا ہے اور اب بھی عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں۔

سخت پابندیاں
مردوں کی تحریری اجازت کے بغیر نہ عورتیں بچوں کو سکول میں داخل کراسکتی ہیں، نہ ان کے نام سے کھاتہ کھول سکتی ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ سفر کرسکتیں

سن دو ہزار پانچ میں شاہ عبداللہ کے برسراقتدار آنے کے بعد سے حکومت نے کہا ہے کہ وہ اصلاحات کے عمل کی حمایت کرتی ہے لیکن اگر معاشرے کے بڑے حصوں کی جانب سے مزاحمت ہو تو وہ زیادہ تبدیلیاں کرنا ممکن نہیں ہے۔

لیکن ساتھ ہی حکومت نے گزشتہ دو برسوں میں ہیومن رائٹس واچ کو اپنی رپورٹ تیار کرنے کی کافی حد تک آزادی دی ہے اور امسال ملازمتوں میں خواتین کی تعداد بڑھی ہے۔ اسی سال ایک نیا قانون بھی منظور کیا گیا ہے جس کے تحت عورتیں اکیلے ہوٹلوں میں ٹھہر سکتی ہیں۔

مقامی مذہبی عمائدین کا خیال ہے کہ محرم کا نظام ملک کے سماجی اور اخلاقی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

ان ضابطوں کا اطلاق عدلیہ اور ایک ’اخلاقی پولیس‘ کی مدد سے کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ’حکام عورتوں کے ساتھ چھوٹے بچوں جیسا سلوک کرتے ہیں جنہوں خود اپنی زندگی پر کوئی اختیار نہیں۔‘ یہ رپورٹ سو عورتوں سے بات چیت کے بعد تیار کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مردوں کی تحریری اجازت کے بغیر نہ عورتیں بچوں کو سکول میں داخل کراسکتی ہیں، نہ ان کے نام سے کھاتہ کھول سکتی ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کے ساتھ سفر کرسکتیں۔

سعودی خاتونخواتین کا ہوٹل
خواتین ہی مہمان، خواتین ہی میزبان
ایک خاتون امیدوار کا اشتہارکویت میں انتخابات
خواتین کو بھی حصہ لینے اور ووٹ ڈالنے کی اجازت
خدیجہ الکتامیخواتین اسلامی مبلغ
مراکش: پہلی بار مساجد میں خواتین تعینات
عالمی ویمن ڈے
عورتوں کے عالمی دن پر انڈین عورتیں کہتی ہیں
عورتوں کے لیے
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد