مقتدی کی’ کھلی جنگ‘ کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی شعیہ لیڈر مقتدیٰ الصدر نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی فوج اور عراقی سکیورٹی فورسز نے ان کی حامی مہدی ملیشیا کے خلاف آپریشنز بند نہ کیے تو پھر وہ کھلی جنگ کا اعلان کر دیں گے۔ مقتدی الصدر کی دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عراقی سکیورٹی فورسز امریکہ کی مدد سے عراق میں اپنے اثرو رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مقتدی الصدر نے کہا:’ میں عراقی حکومت کو میری آخری بار خبردار کرتا ہوں کہ وہ آپریشنز بند کر کے امن کا راستہ اختیار کرے۔‘ مقتدی الصدر نے کہا کہ اگر ان کی ملیشیا کے خلاف آپریشنز جاری رہے تو ان کی نظر میں موجودہ عراقی حکومت اور سابقہ حکومت میں فرق ختم ہو جائے گا اور ایک وہ ایسی جنگ کا آغاز کریں گے جو فتح تک جاری رہے گی۔‘ عراق میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ نوری المالکی کی حکومت ایسے علاقے میں رفتہ رفتہ اپنے اثرو رسوخ بڑھانے میں کامیاب ہو رہی ہے جہاں پہلے مہدی ملیشیا کا کنٹرول تھا۔ | اسی بارے میں عراق:مقتدٰی مذاکرات پر’راضی‘07 April, 2008 | آس پاس عراق:’عرب ممالک کو آگے آنا ہوگا‘12 April, 2008 | آس پاس عراق:حملوں میں کم سے کم 70 ہلاک15 April, 2008 | آس پاس عراق: بم دھماکے میں تیس ہلاک17 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||