ایچ آئی وی: پچاس ارب ڈالر کا پروگرام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اگلے پانچ برس میں ایڈز اور ایچ آئی وی پر قابو پانے کے لیے پچاس ارب ڈالر خرچ کرے گا۔ امریکہ کے ایوانِ زیریں نے ایک بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت ایچ آیی وی ایڈز کے پروگراموں پر خرچ کی جانے والی رقم میں تین گنا اضافہ کیا جائے گا۔ اس بل کو ایک سو سولہ کے مقابلے میں تین سو چھ ووٹ کی بنیاد پر منظور کیا گیا۔ یہ رقم افریقہ سمیت دنیا کے ایچ آئی وی سے متاثر علاقوں میں خرچ کی جائے گی۔ پارلیمان کے اس فیصلے کو وائٹ ہاؤس کی حمایت حاصل ہے ۔اس سے پہلے سنہ دو ہزار تین میں شروع کیے جانے والے پانچ سالہ پروگرام کے لیے امریکہ نے پندرہ ارب ڈالر مختص کیے تھے۔ پارلیمان کی سپیکر نینسی پلوسی کا کہنا تھا کہ ’اس بیماری سے نمٹنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔‘ صدر بش نے پچھلے سال کانگریس سے درخواست کی تھی کہ وہ اس پروگرام کے لیے تیس ارب ڈالر مختص کر لے۔ اس کا مقصد پچیس لاکھ مریضوں کو علاج فراہم کرانے کے علاوہ ایک لاکھ افراد کو اس بیماری سے بچانا بتایا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ موجودہ پروگرام کے تحت ڈیڑھ لاکھ مریضوں کو علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ اب تک یہ پروگرام بارہ افریقی ممالک کے علاوہ ہیٹی، ویت نام اور گیانا میں چلایا جا رہا ہے، لیکن اب اس میں توسیع کر کے اسے ملاوی، سوازی لینڈ، لیسوستھو اور کچھ کربیئن ممالک میں بھی چلایا جائے گا۔ امریکی پارلیمان میں ایچ ائی وی ایڈز کے پروگراموں سے متعلق بل کے مخالفین کا کہنا تھا کہ یہ بہت زیادہ رقم ہے اور اس پیسے کو دور کے ممالک میں خرچ کیے جانے کے بجائے اسے امریکہ سے قریب کسی منصوبے پر خرچ کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق دنیا میں تین کروڑ تیس لاکھ افراد ایچ آیی وی وائرس کے شکار ہیں اور ان میں تقریباً دو تہائی مریض افریقی ممالک میں مقیم ہیں۔ ایچ آئی وی وائرس سے ایڈز کی جان لیوا بیماری ہوسکتی ہے۔ | اسی بارے میں ایڈز: علاج ابھی ممکن نہیں15 February, 2008 | نیٹ سائنس ایڈز: سستی دوا کی تیاری کا معاہدہ09 May, 2007 | نیٹ سائنس برازیل: ایڈز ادویات پر فیصلہ05 May, 2007 | آس پاس ایڈز سے چھٹکارا پانےوالے پر تحقیق13 November, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||