احمدی نژاد بغداد پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدر احمدی نژاد نے عراق کےدورے کے دوران کہا ہےکہ اگر عراقی باشندے امریکہ کو پسند نہیں کرتے تو اس میں ایران کا قصور نہیں ہے۔ احمدی نژاد پہلے ایرانی صدر ہیں جو عراق کے دورے پر پہنچے ہیں۔ احمدی نژاد بغداد ائرپورٹ سے کار پر سوار ہو کر بغداد کے مرکزی علاقے، گرین زون میں گئے۔ عراقی کی حکومت نے احمدی نژاد کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے لیکن امریکی افواج نے نہ تو احمدی نژاد کی حفاظت میں مدد کی اور نہ ہی ہیلی کاپٹر مہیا کیے۔ احمد نژاد نے دو مواقعوں پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی علاقےمیں آمد نےدہشگردی کو جنم دیا ہے۔ ایرانی صدر نے امریکہ کو مشورہ دیا کہ وہ ایران کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ احمدی نژاد نے کہا کہ امریکہ کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ عراق کے لوگ اسے پسند نہیں کرتے۔عراقی صدر جلال طالبانی کےہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احمدی نژاد نے کہا کہ اگر عراقی لوگ امریکہ کو پسند نہیں کرتے تو یہ ایران کا قصور نہیں ہے۔ امریکہ صدر جارج بش نے احمدی نژاد کے دورہ عراق سے ایک روز پہلے ہی ایران کو خبردار کیا تھا کہ عراق میں اسلحہ کی سپلائی بند کرئے جس سے امریکی شہریوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔ احمدی نژاد نے کہا کہ ان کا عراق کا دورے سے تاریخ کا ایک نیا باب کھل چکا ہے اور عراق اور ایران کے درمیان تعلقات مزید بڑھیں گے۔ احمد نژاد نے کہا کہ وہ آمر صدام حسین کی غیر موجودگی میں عراق کا دورہ کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ البتہ احمدی نژاد نے صدام حسین کے اقتدار کا خاتمہ کرنے پر امریکہ کی تعریف نہیں کی۔ | اسی بارے میں حملے سے باز رہیں: احمدی نژاد22 September, 2007 | آس پاس احمد نژاد خلیج کے دورے پر13 May, 2007 | آس پاس ’امریکہ کی سلطنت رو بہ زوال‘ 20 November, 2007 | آس پاس حملے کی تیاری نہیں کر رہے: بش12 February, 2007 | آس پاس ایرانی صدر عراق کےتاریخی دورے پر02 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||