BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 February, 2007, 15:53 GMT 20:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حملے کی تیاری نہیں کر رہے: بش
صدر بش
فوجی مہم کسی مسئلے کا آخری حل ہوتی ہے
امریکی صدر جارج بش نے افواہوں کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

انہوں نے ان افواہوں کو اپنے مخالفین کا ’شور وغوغا‘ قرار دیا ہے۔

امریکی صدر کا یہ بیان محمود احمدی نژاد کے امریکی ٹی وی کو دیے جانے والے اس انٹرویو کے بعد آیا ہے جس میں ایرانی صدر نے کہا تھا کہ امریکہ عراق میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ایران پر الزام تراشی کر رہا ہے اور ایران ہمیشہ جنگ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ فوجی مہم کسی مسئلے کا آخری حل ہوتی ہے اور انہیں یقین ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاملے پر اختلافات کو سفارتی کوششوں سے حل کیا جا سکتا ہے۔ جارج بش نے کہا کہ ان کی پالیسی کا مقصد دنیا کو یہ باور کروانا ہے کہ ایرانی حکومت جوہری ہتھیار بنا رہی ہے۔

امریکہ نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ ایران عراقی شیعہ ملیشیا کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے جس سے کئی سو امریکی فوجی زخمی اور سو سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔آزاد ذرائع سے امریکی الزامات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

احمدی نژاد
عراق میں امن عامہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال ایران کے لیے بھی خطرہ ہے

امریکی ٹیلی ویژن سے بات چیت میں ایرانی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکی الزامات عراق میں اپنے قیام کو توسیع دینے کا بہانہ ہیں اور اگر عراق سے غیر ملکی فوج واپس چلی جائے تو وہاں امن دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا امریکی الزامات کو عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔ایرانی صدر نے واضح کیا کہ عراق میں امن عامہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال ایران کے لیے بھی خطرہ ہے۔

اس سے پہلے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد علی حسینی نے امریکی الزامات کو بے بنیاد پراپیگنڈہ قرار دیا۔ایرانی ترجمان نے کہا کہ امریکہ پہلے بھی بے بنیاد الزامات لگاتا رہا ہے۔

ڈیموکریٹ سینیٹر کرس ڈاڈ کا بھی کہنا ہے کہ بش انتظامیہ پہلے بھی جھوٹے ثبوت پیش کرنے کی کوشش کر چکی ہے اور وہ اس دعوے کے حوالے سے مشکوک ہیں۔ ایک اور ڈیموکریٹ سینیٹر اور سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے رکن ران وائڈن کے مطابق بش انتطامیہ اس وقت ایران کے حوالے سے اسی قسم کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے جیسا کہ اس نے عراق پر چڑھائی سے قبل پیٹا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد