BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 January, 2008, 15:49 GMT 20:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تامل خفیہ سروس کا سربراہ ہلاک
حکومت نےجنگ بندی معاہدے سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے
سری لنکا میں علیحدگی پسند تامل باغیوں کی انٹیلیجنس سروس کے سربراہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

باغیوں سے ہمدردی رکھنے والی ایک ویب سائٹ کے مطابق کرنل چارلس کی موت اس وقت ہوئی جب ان کی گاڑی ایک بارودی سرنگ کی زد میں آگئی جو سرکاری افواج نے باغیوں کے کنٹرول والے علاقے میں نصب کی تھی۔

حکومت کے مطابق کرنل چارلس ان کم سے کم چونتیس باغیوں میں شامل تھے جو شمالی منار ضلع میں مارے گئے ہیں۔

بدھ کو حکومت نے جنگ بندی کے معاہدے سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی کیونکہ بقول اس کے باغیوں کے تشدد کی وجہ سے اس کا کوئی فائدہ باقی نہیں تھا۔

اس معاہدے پر ناروے کی ثالثی میں سن دو ہزار دو میں دستخط کیے گئے تھے لیکن گزشتہ دو برسوں میں پانچ ہزار سے زیادہ لوگ لڑائی میں مارے جا چکے ہیں۔

باغیوں نےبھی کئی بڑے حملے کیے ہیں

حکومت کے مطابق نئے سال میں پچاس باغی اور اس کے اپنے تین فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ جن علاقوں میں لڑائی جاری ہے وہاں صحافیوں کو جانے کی اجازت نہیں لہذا ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق اکثر نہیں ہو پاتی۔

تامل باغیوں نے کرنل چارلس کی ہلاکت پر کچھ نہیں کہا ہے۔ ان کا اصل نام شان موگاناتھن روی شنکر تھا۔

حکومت نے ویب سائٹ کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ کرنل چارلس کو فوج کے ایک دستے نے باغیوں کے کنٹرول والے علاقے میں کافی اندر جاکر ہلاک کیا۔ فوج کے مطابق ہو سکتا ہے کہ کرنل چارلس گولہ باری یا فائرنگ کی زد میں آگئے ہوں۔

کرنل چارلس کی موت جیسے بھی ہوئی ہو، تامل باغیوں کے لیے یہ ایک اور بڑا دھچکہ ہے۔ نومبر میں حکومت نے دعوی کیا تھا کہ اس کے ایک فضائی حملے میں باغیوں کے سربراہ ویلو پلائی پربھاکرن زخمی ہوگئے تھے۔ نومبر میں ہی ایل ٹی ٹی ای کی سیاسی شاخ کے سربراہ ایس پی تمل سیلون ہلاک ہوئے تھے جبکہ ایک اور لیڈر کروناکرن کو دہشت گردی کے الزامات میں امریکہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ایل ٹی ٹی ای لمبے عرصے سے سری لنکا کے شمال اور مشرقی علاقوں میں تاملوں کےلیے ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کررہی ہے۔

دو ہزار پانچ میں مہندا راجاپکشے کے صدر منتخب ہونے کےبعد سے مشرقی علاقے باغیوں سے خالی کرلیے گئے ہیں اور نامہ نگاروں کے مطابق حکومت باغیوں کو شمالی علاقوں میں بھی کچلنا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد