BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 January, 2008, 03:51 GMT 08:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف ہمارے قریبی اتحادی ہیں‘
بش
امریکہ میں بھی صدارتی انتخاب کا طویل عمل شروع ہو گیا ہے
امریکہ کے صدر جارج بش نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے صدر پرویز مشرف کی حمایت کا اِعادہ کرتے ہوئے انہیں اپنا اتحادی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پاکستان میں انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت کے سے کام کریں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے صدر بش نے امید ظاہر کی کہ جو بھی پاکستان کے عام انتخابات میں کامیاب ہو گا صدر مشرف اس کے ساتھ کام کریں گے۔ انہوں نے کہا ’بیشک پاکستان ہمارا قریبی اتحادی رہے گا۔‘

صدر بش نے کہا کہ وہ ہمیشہ صدر مشرف کے حامی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’میں سمجھتا ہوں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ڈٹے ہوئے ہیں۔‘

صدر بش نے مزید کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیش آنے والے خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں اور صدر مشرف پر بھی حملے ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے وردی اتارنے اور انتخابات کی تاریخ کے اعلان کرنے کے اپنے وعدوں کو پورا کیا ہے۔

 صدر بش نے اس بارے میں کوئی بات کرنے سے اجتناب کیا کہ کیا وہ بینظیر بھٹو کے شوہر اور ان کے انیس سالہ بیٹے کو جو اب پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں یا سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بھی اپنا اتحادی تصور کرتے ہیں۔
صدر بش نے کہا کہ دہشت گرد جمہوریت کے عمل کو پٹڑی سے اتارنے، ملک میں افراتفری اور غیر یقنی کی صورت حال پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ان ہی مقاصد کے لیے انہوں نے ایک بہادر عورت کو قتل کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کے مفاد میں ہے کہ وہ پاکستان کو اس صورت حال سے نکلنے میں مدد کرے اور پاکستان میں لمبے عرصے تک کے لیے جمہوریت بحال ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہی امریکہ کا موقف ہے۔

بش انتظامیہ نے صدر مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیان مفاہمت کروانے کے لیے بڑی کوشش کی تھی اور جس کے نتیجے میں وہ وطن واپس لوٹیں اور صدر مشرف انتخابات کرانے اور بینظیر سے شراکتِ اقتدار پر تیار ہوئے تھے۔

صدر پرویز مشرف نے جب ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرکے سینکڑوں سیاسی مخالفین، ججوں اور وکلاء کو گرفتار کیا تو بش انتظامیہ نے بہت محتاط رویہ اپنائے رکھا۔

صدر بش نے اس بارے میں کوئی بات کرنے سے اجتناب کیا کہ کیا وہ بینظیر بھٹو کے شوہر اور ان کے انیس سالہ بیٹے کو جو اب پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں یا سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بھی اپنا اتحادی تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں استحکام ہو۔

صدر بش نے کہا کہ ان کی توجہ سیاسی عمل میں شریک سیاسی جماعتوں پر ہے اور انتخابی عمل کے بعد کسی طرح وہ مل کر پاکستان کے استحکام اور اتحاد کے لیے کام کرتی ہیں۔

صدر بش نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تفتیش کے لیے اسکاٹ لینڈ یارڈ کو مدد کے لیے بلانے کو وہ ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان امریکہ سے اس سلسلے میں مدد چاہتا تو وہ بخوشی اس کو مدد فراہم کرتے لیکن اسکاٹ لینڈ یارڈ بھی بہت قابل ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں تو معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔

صدر بش نے حکومت پاکستان کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر پر حملہ اسی طریقے سے ہوا جس طرح القاعدہ کارروائیاں کرتی ہے۔ تاہم انہوں نے کوئی فیصلہ کن بات نہیں کی اور کہا کہ وہ کسی پر الزام نہیں لگا سکتے کہ یہ حملہ کس نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ اس کا پتا لگا لیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد