عراق دھماکے: چالیس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی پولیس کے مطابق جنوبی شہر امارہ میں ہونے والے تین کار بم دھماکوں کم از کم چالیس افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق تینوں دھماکے تھوڑی وقفے سے مقامی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے کے قریب ہوئے۔ پہلے دو دھماکے ایک پر ہجوم کار پارک میں ہوئے جہاں مزدور اپنے روزمرہ کام پر جانے کے لیے جمع تھے جبکہ تیسرا دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کو جمع تھے۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد تیسرے دھماکے میں ہلاک ہوئے۔ تاحال کسی تنظیم یا گروہ نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے کار بم دھماکے عام طور پر دیکھنے میں نہیں آتے۔ امارہ کا شہر عراقی صوبے میثان میں بغداد سے ساڑھے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایک شیعہ اکثریتی علاقہ ہے اور یہاں مختلف شیعہ گروپوں میں ہی باہمی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ امارہ میں ہونے والا یہ حملہ عراق میں ہونے والے بڑے حملوں میں سے ہے تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ دھماکے علاقے میں سرگرم شیعہ گروپوں کی باہمی چپقلش کا نتیجہ ہوں۔ | اسی بارے میں خاتون بمبار کا حملہ، 16 ہلاک07 December, 2007 | آس پاس گیٹس کا دورۂ عراق، آٹھ ہلاک05 December, 2007 | آس پاس عراقی مفاہمت کے لیے امریکی اپیل03 December, 2007 | آس پاس عراق: حملے میں 14 افراد ہلاک01 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||