طالبان کمانڈرگرفتار نہیں ہوئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ موسی قلعہ پر حملے کے دوران طالبان کے دو سرکردہ کمانڈروں کی گرفتاری کا اس کا دعویٰ درست نہیں تھا۔ اتوار کو افغان وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ موسیٰ قلعہ پر حملے کے دوران ہلمند کے علاقے میں طالبان کے دو کمانڈروں ملا متین اور ملا رحیم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم وزارتِ دفاع کا اب کہنا ہے کہ یہ دعویٰ درست نہیں تھا اور یہ شناخت کی غلطی تھی۔ وزراتِ دفاع نے کہا ہے کہ موسیٰ قعلہ پر دوربارہ قبضے کے دوران افغان فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ اس لڑائی میں چار شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ مقامی لوگوں سے جب موبائل فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ افغان، برطانوی اور امریکی فوج کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایک برطانوی ترجمان کا کہنا ہے کہ موسیٰ قلعہ پر قبضے سے قبل طالبان کی بڑی تعداد شہر چھوڑ کر پہاڑوں کی طرف جا چکی تھی۔ موسیٰ قلعہ کے گورنر نے لوگوں سے اپنے گھروں کو لوٹنے کی اپیل کی ہے لیکن افغان فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ابھی لوگوں کو واپس آنا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ علاقے سے پوری طرح طالبان کے عناصر سے صاف کرنے اور بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں دو دن لگ سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں موسیٰ قلعہ پر طالبان کا قبضہ ختم11 December, 2007 | آس پاس موسیٰ قلعہ: دو طالبان رہنماء گرفتار10 December, 2007 | آس پاس کرزئی فوج کے لیے امداد کے خواہاں 11 December, 2007 | آس پاس موسیٰ قلعہ پر کنٹرول کی کوششیں08 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||