BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 November, 2007, 00:41 GMT 05:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گھریلو ملازمین پر زیادتیاں‘
چھ لاکھ سری لنکن خواتین بیرون ممالک میں ملازم ہیں
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں خلیج کی ریاستوں پر سری لنکا سے تعلق رکھنے والی گھریلو ملازمین کے ساتھ زیادتیوں کو روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی اس تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور لبنان میں گھریلو ملازماوں کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات عام ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق گھریلوں ملازمین کو نوکریاں دینے والے اکثر لوگ ان کے پاسپورٹ اپنے قبضے میں کر لیتے ہیں اور انہیں گھروں تک محدود کر دیا جاتا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے ہیومن رائٹس واچ کے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم نے ان کی طرف سے اس ضمن میں اٹھائے جانے والے اقدامات کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔

سری لنکا سے تعلق رکھنے والی چھ لاکھ سے زیادہ خواتین مختلف ممالک میں گھریلو ملازمین کی حیثیت سے نوکریاں کر رہی ہیں جس میں سے نوے فیصد خواتین خلیجی ریاستوں میں ملازم ہیں۔

ایک سو اکتیس صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں ایسے واقعات درج ہیں جن میں ملک سے باہر جا کر گھریلو ملازمتیں حاصل کرنے والی خواتین کو قدم قدم پر مسائل اور صعوبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی ایک اہلکار جینیفر ٹرنر نے کہا کہ ’خلیجی ممالک میں حکومتیں گھریلو ملازمین کو ہفتے میں ایک چھٹی یا آرام کا دن اور گھومنے پھرنے کی آزادی جیسے بنیادی حقوق سے محروم کرکے انہیں ملکان کے رحم وکرم پر چھوڑ دیتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ بے ضمیر ایجنٹس اور سنگ دل مالکان ان بے بس خواتین کے ساتھ ظلم اور زیادتیوں کی سزا سے بچ جاتے ہیں۔

اس رپورٹ میں ایک سو ستر گھریلو ملازماوں، سرکاری اہلکاروں اور افرادی قوت فراہم کرنے والے ایجنٹوں سے سری لنکا اور خلیجی ریاستوں میں انٹرویوز کیئے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے گھریلو ملازمین اوسطً دن میں سولہ سے اکیس گھنٹے کام کرتے ہیں اور اوقات کار کے دوران انہیں کوئی آرام یا چھٹی نہیں دی جاتی اور وہ انتہائی کم اجرتوں پر ملازمتیں کرنے پر مجبور ہوتےہیں۔

ان میں سے بہت سے ملازمین نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کس طرح انہیں گھروں میں قید کر کے بھوکا رکھا جاتا ہے، زبانی اور جسمانی طور پر اذیت دی جاتی ہے اور اکثر جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

ٹرنر نے کہا کہ خلیجی ریاستوں کو اس طرح کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے بہت سے اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔

سعودی عرب، کویت اور متحد عرب امارات کو ان ملازمین کو لیبر لاز کے تحت تحفظ فراہم کرنا ہوگا، ان کی شکائتوں کو سننا ہوگا اور امیگریشن کے قوانین میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔

ہیومن رائٹس واچ نے سری لنکن حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ سری لنکا میں ایسے ملازمین کو نوکریاں دینے والوں کے لیے قانون سخت کرے اور بیرون ممالک میں اپنے کارکنوں کو بھر پور قانونی مدد فراہم کرے۔

متحدہ عرب امارات نے ان الزامات کو رد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ رپورٹ میں حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے مثبت اقدامات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد