BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 September, 2007, 03:56 GMT 08:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترجمہ اچھا ہوا تو بچ گئے نہیں تو واپس

تارکینِ وطن کے لیے مہم
امریکہ سے کینیڈا ہجرت کرنے والے سینکڑوں پاکستانی رفیوجی خاندانوں کو ملک بدری کا سامنا ہے
امریکہ سے کینیڈا ہجرت کرنے والے سینکڑوں پاکستانی رفیوجیز کو امیگریشن وکیلوں کے بعض ناتجربہ کار ایجنٹیوں کی ’غفلت‘ سے ملک بدری کا سامنا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ سے ہجرت کر کے کینیڈا آنے والے بیشتر پاکستانیوں کو جلد یا کچھ عرصے بعد اپنے ملک لوٹنا ہو گا۔

ستمبر گیارہ سن دو ہزار ایک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد جب اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نےیہ بیان دیا کہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کو ہر صورت میں رجسٹریشن کرانا ہو گی تو یہ خبر امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہزاروں پاکستانیوں پر بجلی کی طرح گری اور ’چلو چلو کینیڈا چلو‘ کی تحریک نے زور پکڑ ا۔ مگر یہ خبر کینیڈا میں مقیم امیگریشن وکیلوں کے بعض نا تجربہ کار ’ایجنٹوں‘ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ثابت ہوئی۔

ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی کینیڈا میں داخل ہوئے اور انسانی ہمدردی کی بنا پر کئی خاندانوں کو پناہ مل گئی اور بہت سارے ایسے خاندان بھی تھے جن کو امریکہ میں پکڑ دھکڑ کے ڈر اور خوف نے سنبھلنے کا موقع بھی نہ دیا اور وہ کینیڈا آنے کے بعد ان ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ گئے۔

ٹورانٹو میں مقیم ایک معروف کینیڈین امیگریشن کے وکیل مائیکل کورمین نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ستمبر گیارہ کے بعد بہت سارے افراد کو کینیڈا میں پناہ ملی ہے اور ان کیسوں میں تجربہ کار مترجم بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’میرے دفتر میں ستمبر گیارہ کے واقعات کے بعد بہت سارے ایسے رفیوجی درخواست گزار بھی آئے تھے جن کے کیس کسی دوسرے وکیل کے پاس تھےاور ان کے کلیم مسترد ہو چکے تھے۔ میں نے ان افراد کے کیس وفاقی عدالت میں چیلنج کیے۔‘

جعلسازوں کا شکار
 ٹورانٹو کی امیگریشن جیل میں کئی پاکستانی مرد و خواتین ملک بدری کے انتظار میں ہیں اور سخت ذہنی کوفت کا شکار ہیں۔ان میں اکثر جعلی امیگریشن کنسلٹنٹوں کا شکار ہوۓ ہیں۔ یہ جعلساز خود کو امیگریشن کنسلٹنٹ ظاہر کرتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس کسی قسم کا لائسنس نہیں ہوتا
فرح مارینڈا

کینیڈا میں عام طور پر پناہ کی درخواست دینے والوں کواپنی جیب سے وکیل کو کوئی فیس ادا نہیں کرنا پڑتی۔ حتی کہ لیگل ایڈ ایک مخصوص حد تک مترجم کے اخراجات بھی ادا کرتی ھے ۔کسی بھی ریفیوجی درخواست گزار کی شروع سے لےکر ملک بدری سے قبل آخری کاروائی( پری ریموو ول اسیسمنٹ)pre removal assessment میں درخواست گزار کےکینیڈا میں داخل ہوتے وقت درخواست میں بیان شدہ ’سٹوری‘ اور سارے عرصہ کینیڈا میں قیام تک مترجم ایک اہم کردار ادا کرتا ھے۔ اور عدالت اور وکلاء مترجم پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

مائیکل کورمین کا کہنا ہے کہ ’ایک وکیل کا کام یہ نہیں ہے کہ اس کا کلائینٹ کیا کہے اور کیا نہ کہے بلکہ وکیل کا کام یہ ہے کہ اپنے موکل کی مدد کرے کہ وہ عدالت کو کیا کہنا چاہتا ہے۔‘

قانونی ماہرین اور امیگریشن کے متعلقہ غیر سرکاری تنظیمیں اس بات پر افسوس کا اظہار کر رہی ہیں کہ کینیڈا پہنچنے والے پناہ گزین جن میں زیادہ تر پاکستانی ہیں، یہاں کے قوانین اور گیارہ ستمبر کے ہولناک واقعات کے بعد بدلی ہوئی صورتحال سے ناواقف تھے۔

پاکستانی
پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے کینیڈا کی امیگریشن لی ہے

امیگریشن اینڈ ریفیوجی بورڈ میں کام کرنے والے ایک پاکستانی نژاد سرکاری مترجم نے نام ظاہر نہ کرنے کی بناء پر بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے پاکستانی خاندانوں کے ساتھ ان ایجنٹوں کے کیے ہوئے ’کارناموں‘ کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور بعض اوقات تو جج اور سرکاری وکیل بھی درخواست گزاروں کی حالت دیکھ کر حیران ہوجاتے ہیں۔

ملک بدر ہونے والے ایک پاکستانی خاندان کے ساتھ پیش آنے والا ایک انوکھا واقعہ سناتے ہوئے سرکاری مترجم نے بتایا کہ ’امریکہ کے شہر شکاگو میں مقیم ایک کراچی کے رہائشی نے کینیڈا آکر ریفیوجی کلیم کیا۔ وہ ٹورانٹو ایک کینیڈین وکیل کے ساتھ کام کرنے والے ایک ایجنٹ کے ہاتھوں چڑھ گئے۔ اس ایجنٹ نے ان کا کیس بھی خراب کردیا اور اس کی ساری جمع پونجھی بھی ہڑپ کر لی اورجب ان کا کیس مسترد ہوگیا تو اس ایجنٹ نے ان کا نام بدل کر نئے نام سے کیس داخل کر دیا۔اب دوبارہ فنگر پرنٹ دینے کا وقت آیا تو اس نے ان کے ہاتھوں پر تیز دھار بلیڈوں سے کٹ لگائے کہ انگلیوں کے نشان بدل سکے۔ مگر ان کا کیس کسی صورت نہ ہوسکا۔ بالاخر وہ اپنی بیوی اور تین چھوٹی چھوٹی بیٹیوں کے ہمراہ لاطینی امریکی ملک پیرو چلے گئے۔

کینیڈا میں غیر قانونی تارکین وطن کے حقوق کے لیے لڑنے والی ایک مشہور غیر سرکاری تنظیم No one is Illegal ’نو ون از الیگل‘ کی آرگنائزر فرح مارینڈا نے بی بی سی اردو سے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ سے کینیڈا ہجرت کرنے والے سینکڑوں پاکستانی رفیوجی خاندانوں کو ملک بدری کا سامنا ہے۔

بہت ساری افراد ایسے بھی ہیں جن سے یہ مترجم اور ایجنٹ بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں اور ان تارکین وطن کو جب پولیس یا امیگریشن پکڑ لیتی ہے تو پتہ چلتا ھے کہ ان کے درخواستیں ابھی تک ان ایجنٹوں کے ٹیبل پر ہی پڑی ہوئی ہیں ۔

فرح مارینڈا نے مزید بتایا کہ ٹورانٹو کی امیگریشن جیل میں کئی پاکستانی مرد و خواتین ملک بدری کے انتظار میں ہیں اور سخت ذہنی کوفت کا شکار ہیں۔ان میں اکثر جعلی امیگریشن کنسلٹنٹوں کا شکار ہوۓ ہیں۔ ’یہ جعلساز خود کو امیگریشن کنسلٹنٹ ظاہر کرتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس کسی قسم کا لائسنس نہیں ہوتا۔‘

اسی بارے میں
غربِ اردن کا میامی
30 July, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد