تارکین وطن، سپین میں داخلہ ممنوع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین نے موریطانیہ کے ساحلی شہر نوادیبو میں پھنسے ہوئے تین سو کے قریب تارکین وطن کو اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ تارکینِ وطن کا یہ معاملہ اس ماہ کے شروع میں اس وقت سامنے آیا تھا جب ایک کشتی برصغیر، برما، سری لنکا اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے 334 تارکینِ وطن کو کنیری کے جزائر کی طرف لے جاتے ہوئے راستے میں خراب ہو گئی تھی۔ خرابی کا شکار میرین 1 کشتی کو ہسپانوی بحریہ کے ایک جہاز نے کھینچ کر موریطانیہ کی شمالی بندرگاہ نووادیبو پہنچایا تھا۔ سپین کے خارجی امور کے ایک اہلکار برنارڈینو لیون کے مطابق سپین ان دو نناوے تارکین وطن کو قبول نہیں کرےگا جن کو شناختی دستاویزات کے بغیر موریطانیہ میں رکھا گیا ہے۔ ان افراد کی شناخت کا عمل ابھی جاری ہے۔ تاہم اطلاعات ہیں کہ زیادہ تر تارکین وطن اپنا تعلق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے بتا رہے ہیں جبکہ انڈیا ان کی شہریت کو قبول کرنے سے انکار کررہا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ان افراد میں سمگل کرنے والے افراد بھی ان میں شامل ہیں اور یہ ان کے خوف سے اپنی اصلی شہریت نہیں بتا رہے۔ غیر قانونی تاریک وطن سینیگال اور موریطانیہ کے راستوں سے یوروپی ممالک میں داخل ہونے کے لیے مشہور ہیں۔ ان ممالک سے غیر ملکی تارکینِ وطن جزائر کینری پہنچتے ہیں، جہاں سے وہ آسانی سے پوروپ میں داخل ہوسکتے ہیں۔ | اسی بارے میں پھنسے پاکستانیوں کیلیے امداد06 February, 2007 | آس پاس سینکڑوں پاکستانی تارکین پھنس گئے05 February, 2007 | آس پاس کشتی کے 35 مسافر سپین پہنچ گئے14 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||