کشتی کے 35 مسافر سپین پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
موریطانیہ میں پھنسے ایشیا اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن میں سے پینتیس افراد کو سپین پہنچا دیا گیا ہے۔ سپین میں اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے UNHCR کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان پینتیس افراد کو ہسپانوی حکام نے سیاسی پناہ حاصل کرنے کا اہل قرار دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ان افراد میں سے تین کا تعلق افغانستان، دس کا سری لنکا اور بائیس کا برما سے ہے۔ تارکینِ وطن کا یہ معاملہ قریباً دو ہفتے قبل اس وقت سامنے آیا تھا جب میرین 1 نامی کشتی بھارت کے زیر انتظام کشمیر، برما، سری لنکا اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے 334 تارکینِ وطن کو کنیری کے جزائر کی طرف لے جاتے ہوئے راستے میں خراب ہو گئی تھی۔ خرابی کا شکار میرین 1 کو ہسپانوی بحریہ کے ایک جہاز نے کھینچ کر موریطانیہ کی شمالی بندرگاہ نووادیبو پہنچایا تھا۔ کشتی کے باقی مسافروں کے بارے میں UNHCR کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں ان کے متعلقہ ممالک کی طرف روانہ کیا جائے گا۔ سینیگال اور موریطانیہ یورپی ممالک میں داخل ہونے کے لیے مشہور ہیں۔ ان ممالک سے غیر ملکی تارکینِ وطن جزائر کینری پہنچتے ہیں، جہاں سے انہیں یورپ میں داخل ہونے میں آسانی ہوتی ہے۔ |
اسی بارے میں تارکینِ وطن، کشتی موریطانیہ پہنچ گئی12 February, 2007 | آس پاس تارکین وطن سے فائدہ نہیں: رپورٹ03 January, 2007 | آس پاس امیگریشن بِل پر اتفاق کی امید12 May, 2006 | آس پاس ’ہم کوئی مجرم نہیں ہیں‘02 May, 2006 | آس پاس غیرقانونی تارکین وطن کی ملک بدری21 April, 2006 | آس پاس برطانوی شہریت، غیرمعمولی تاخیر13 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||