شراکتِ اقتدار پر زور: نیویارک ٹائمز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بش انتظامیہ پاکستان میں فوجی صدر پرویز مشرف پر اقتدار میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چئير پرسن بینظیر بھٹو کو شریک کرنے پر زور دے رہی ہے۔ یہ بات امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنی ایک جامع رپورٹ میں کہي ہے۔ اخبار نے کہا ہے حالیہ ہفتوں میں بے نظیر بھٹو بش انتظامیہ کے سینئر عہدیداراوں سے ملاقات کرتی رہی ہیں جن میں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد بھی شامل ہیں، جن سے انہوں نے نیویارک میں گزشتہ پیر کو ملاقات کی تھی۔ اخبار نے کہا ہے کہ مجوزہ شراکت اقتدار کے بندوبست کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بن سکتی ہیں جس سے پاکستان کی موجودہ صورتحال کی شدت میں کمی آسکتی ہے۔ اخبار نے کہا ہے کہ امریکی حکام کہتے ہیں کہ انہیں خدشہ ہے کہ پاکستان میں موجودہ صورتحال میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کا تختہ الٹا جاسکتا ہے اور ان کی جگہ لینے والا لیڈر نیوکلئير ہتھیاروں کی حفاظت اور دہشتگردی کی جنگ میں امریکہ کیلیے کم بھروسے والا ثابت ہوسکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کے سیاسی معاملات سے بظاہر خود کو پرے رہنے کا تاثر دے رہا جبکہ بش انتظامیہ کے سینئیر عملدار مجوزہ شراکت اقتدار کی تجویز پر فریقین سے رابطے میں ہیں۔ ’نیویارک ٹائمز‘ نے جمعرات کو شائع ہونے والے اپنی رپورٹ میں بش انتظامیہ اور پاکستانی حکومت میں سینیئر اہلکاروں کے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان میں شدید ہوتے سیاسی بحران کے بیچ امریکی انتظامیہ فوجی صدر جنرل پرویز مشرف پر زور دے رہی ہے کہ وہ اپنی سیاسی بنیاد وسیع کرنے کے لیے اپنی دیرینہ سیاسی مخالف بےنظیر بھٹو کو اقتدار میں شریک کریں۔
اخبار نے لکھا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف، جوگیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد دہشتگردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کے اہم حلیف ہیں، پاکستان میں چند مہینوں سے تیزی سے اپنی سیاسی حمایت کھو رہے ہیں اور امریکی حکومت سمجھتی ہے کہ جنرل مشرف کے صدر رہنے کا واحد راستہ اب بےنظیر بھٹو سے شراکت اقتدار میں نظر آتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بےنظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف اپنے درمیان گزشتہ ستائيس جولائي کو ابوظہبی میں ہونےوالی غیر اعلانیہ ملاقات کا سر عام اعتراف نہیں کررہے لیکن امریکی انتظامیہ سمجھتی ہے کہ ان کی تجویز کردہ شراکت اقتدار بندوبست کے اپنے فوائد و نقصانات ہیں۔ اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی سیکرٹری خارجہ کونڈالیزا رائیس نے بھی صدر مشرف سے شراکت اقتدار والی تجویز پر تبادلہ خیال کیا تھا جب انہوں نے جنرل مشرف کو گزشتہ ہفتے دو بجے دوپہر ملک میں ایمرجنسی نہ لگانے کی تنبیہہ کرنے کےلیے ٹیلی فون کیا تھا۔ ’نیویارک ٹائمز‘ نے بتایا ہے کہ جقیقت میں مشرف بےنظیر بھٹو مبینہ ڈیل میں سب سے بڑی ممکنہ رکاوٹ صدر مشرف کے عہدہ صدارت کے ساتھ چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ رکھنا ہوسکتا ہے کیونکہ ماضی بھی بےنظیر بھٹو صدر مشرف سے وردی چھوڑنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ لیکن ان دنوں پاکستان میں کہا جارہا ہے کہ وہ ڈیل کو انجام تک پہنچانے کیلیے وردی والا صدر بھی قبول کرسکتی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست کی پییچیدگیاں دیکھتے ہوئے یہ پیش گوئي کرنا مشکل ہے کہ ڈیل کیا شکل اختیار کرتی ہے۔ لیکن اس کا پہلا قدم جنرل پرویز مشرف کی طرف سے آئندہ ماہ انتخابات کا اعلان ہوسکتا ہے کیونکہ بے نظیربھٹو کی پارٹی اب سب سے بڑا حصہ جیتنے کے قابل دکھائي دے رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی کی انتخابات میں جیت بے نظیر بھٹو کے وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار کرسکتی ہے لیکن اس کے لیے ان کو تیسری بار وزیر اعظم بننے پر پابندی جیسے قانون سمیت مزید رکاوٹیں ہٹانے کیلیے صدر مشرف کی حمایت کی ضرورت ہے۔ اور اس کے جواب میں بعد میں ہونےوالے صدارتی انتخابات میں صدر مشرف کےلیے بے نظیر بھٹو کی حمایت اہمیت کی حامل ہوگی کیونکہ صدارتی انتخابات جیتنے سے ہی وہ اپنے موجودہ عہدے پر برقراررہ سکتے ہیں۔ بےنظیر بھٹو نے نیویارک ٹائمز کو اپنے تازہ انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ جانتی ہیں کہ کمزور ہوتے جنرل مشرف سے اتحاد انہیں سیاسی طور زک پہنچ سکتا ہے۔ بےنظیر بھٹو نے کہا ہے کہ وہ ایسے تاثر سے بچنا چاہتی ہیں کہ جس میں ہم ایک غیر مقبول فوجی آمر کو مشکل سے نکالنے نظر آئيں۔ مگر انہوں نے کہا کہ’جب ہم ایک بڑے مقصد کےلیے اتنا اوچھا کھیل رہے ہیں جس کا مقصد عوام کے جمہوری حقوق کی بحالی ہے تو پھر اگلے فریق کی طرف سے بھی نظر میں آنےوالے اقدامات لیے جانے چاہیں۔ اگر نظر نہ آنیوالے اقدامات نہیں اٹھائے جاتے تو عوام اس کا غلط مطلب نکالیں گے۔ اخبار لکھتا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے عملدار کئي مہینوں سے جنرل مشرف کو ان کی سیاسی بنیاد وسیع کرنے کو کہہ رہے ہیں کہ جس سے وہ ملک کے مغربی حصے میں اسلامی شدت پسند گروپوں سے اچھی طرح نبرد آزما ہوسکیں۔ | اسی بارے میں مشرف کے ہاتھ سے وقت نکل رہا ہے: بینظیر16 August, 2007 | پاکستان حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت16 August, 2007 | پاکستان ’تمام اعتدال پسند جماعتوں سے رابطہ ہے‘17 August, 2007 | پاکستان تحریری معاہدہ موجود ہے: قیوم17 August, 2007 | پاکستان ’کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا‘17 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||