خودکش حملہ،جھڑپ میں ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صوبہ قندھار میں ہونے والے خودکش حملے میں ایک ضلعی منتظم اور ان کے تین بچے ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں حملہ آور اور ضلعی منتظم کے علاوہ دو لڑکے اور ایک بچی شامل ہیں۔ افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے اس واقعے کو’ امن دشمن عناصر کی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔ افغان پولیس کے مطابق یہ واقعہ قندھار کے آٹھویں ضلع میں اس وقت پیش آیا جب ضلعی منتظم خیر الدین اچکزئی کو ان کے گھر کے قریب باردو سے بھری جیکٹ پہنے ایک شخص نے نشانہ بنایا۔ واقعے کی مکمل تفصیلات واضع نہیں ہیں اور ایک اطلاع کے مطابق حملہ آور نے منتظم کےگھر کے دروازے پر دستک دی اور دروازہ کھلنے پر دھماکہ کر دیا جبکہ دیگر اطلاعات کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب ضلعی منتظم اپنے گھر کے نزدیک غریب افراد میں خوراک تقسیم کر رہے تھے۔ علاوہ ازیں نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو افواج اور طالبان کے درمیان جھڑپ میں پانچ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام نے اس جھڑپ کے مقام اور وقت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ نیٹو حکام کی جانب سے بیان میں اس واقعے کو افسوسناک قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ واقعے میں زخمی ہونے والے افغان باشندوں کی مکمل نگہداشت کی جائے گی۔ | اسی بارے میں ججوں کی لاشیں برآمد: افغان حکام01 August, 2007 | آس پاس غزنی:دوسرے مغوی کی لاش برآمد31 July, 2007 | آس پاس خودکش حملے میں چھ بچے ہلاک15 June, 2007 | آس پاس قندھار: دو بم دھماکے، چھ ہلاک17 May, 2007 | آس پاس افغان شہریوں کی ہلاکت کی تحقیق05 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||