ججوں کی لاشیں برآمد: افغان حکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حکام نے کہا ہے کہ انہیں غزنی صوبے میں تقریباً دو ہفتے قبل اغوا ہونے والے چار ججوں کی لاشیں ملی ہیں۔ ججوں کا تعلق پکتیتا صوبے سے تھا۔ چاروں ججوں کو جس روز اغوا کیا گیا اس سے ایک ہی دن پہلے تئیس کوریائی باشندے بھی اغوا ہوئے تھے جن میں سے دو کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ ان لوگوں کو بھی ججوں کی طرح اغوا کے بعد غزنی میں رکھا جا رہا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے کہا کہ ان کے ایک فوٹوگرافر نے ججوں کی لاشیں دیکھی ہیں۔ ایجنسی کےمطابق ایک جج کے سر میں جبکہ باقیوں کے جسم کے دوسرے حصوں میں گولیوں کے نشان ہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی مشتبہ طالبان نے جنوبی افغانستان میں ایک جج کو گولی مار دی تھی۔ یہ واقعہ صوبہ قندھار کے پنجوئی ضلع میں پیش آیا تھا۔ طالبان کے رکن ہونے کے ایک دعویدار ایک شخص نے کہا کہ انہوں نے جج کو اس لیے مارا کہ وہ حکومت کے لیے کام کرتا تھا۔ | اسی بارے میں افغانستان: جنوبی کوریائی اغوا20 July, 2007 | آس پاس افغانستان: ضلعی پولیس سربراہ اغواء01 January, 2007 | آس پاس جانسٹن کا اغواء: سو دن مکمل20 June, 2007 | آس پاس لاپتہ فوجی: ’القاعدہ نے اغواء کیا‘15 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||