BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 August, 2007, 07:56 GMT 12:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان ضمنی انتخابات، کشیدگی
لبنان
خیال ہے کہ یہ ضمنی انتخابات لبنان کے سیاسی نظام کو مزید منقسم کر دیں گے
لبنان میں اس وقت ماحول کافی کشیدہ ہے جہاں شام مخالف اتحاد کی حکومت کے دو قتل ہونے والے ارکان پارلیمان کی خالی نشتوں کے لیے ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔

سابق وزیر پیئر جمائل کی نشست کے لیے ڈالے جانے والے ووٹوں کو خاصا اہم سمجھا جا رہا ہے ۔ اس نشست کے لیے ان کے والد امین جمائل الیکشن لڑ رہے ہیں۔

ان کے مقابلے میں اپوزیشن رہنما مائیکل اوون ہیں اور دونوں ہی رہنما اس سال کے صدارتی الیکشن کے لیے اہم امیدوار ہیں۔

لبنان کے فرقہ وارانہ سیاسی نظام میں جہاں صدر عیسائی ، وزیر اعظم ایک سنی مسلمان اور سپیکر ایک شیعہ مسلم ہے صدر کا انتخاب پارلیمان کرتی ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ضمنی انتخابات لبنان کے سیاسی نظام کو مزید منقسم کر دیں گے۔

ان انتخابات کے لیے صدر ایمائل لاہود نے منظوری نہیں دی ہے جو حزب اللہ کی قیادت والی حزبِ اختلاف کے اتحادی ہیں اور پارلیمانی سپیکر نبیح بیری بھی ان کے ساتھ ہیں ۔سپیکر کا کہنا ہے کہ وہ ان انتخابات کے نتائج کو قبول نہیں کریں گے۔

توقع ہے کہ حکمران اتحاد کے محمدالامین مغربی بیروت میں آسانی سے جیت جائیں گے جو سنی علاقہ ہے جبکہ میتن جو شمال مغربی بیروت میں ایک عیسائی علاقہ ہے وہاں مقابلہ سخت رہے گا۔ اس علاقے میں گزشتہ ہفتے سے چھڑپیں جاری ہیں۔

دونوں ہی علاقوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔میتن کے لیے مسٹر اوون کی فری پیٹریاٹک موومنٹ(ایف پی ایم) سے کمائیلی خوری امیدوار ہیں۔

مسٹر جمائل اور ان کے اتحادی، گزشتہ نومبر میں پیئر جمائل اورشام مخالف رہنما مسٹر اییوڈو پرحملہ کرنے کی سازش کا الزام شام پر لگاتے ہیں ۔پیئر جمائل کو گولی ماری گئی تھی جبکہ مسٹر اییوڈو ایک کار بم حملے میں مارے گئے تھے۔

مسٹر اوون کی ایف پی ایم نے 2005 کے پارلیمانی الیکشن میں زیادہ تر عیسائی ووٹ حاصل کیے تھے لیکن شام نواز شیعہ مسلم تحریک حز ب اللہ کے ساتھ اتحاد کے بعد ان کی حمایت میں کمی آگئی۔

یہ ضمنی انتخابات پارلیمان کی جانب سے شام حامی صدر لاہود کے جانشین کو منتخب کرنے کی مہم کا آغاز ہے جن کی مدت اس سال ہی ختم ہو رہی ہے۔

شام مخالف کیمپ کو اپنا صدر منتخب کرنے کے لیے پارلیمان میں سادہ اکثریت حاصل ہے لیکن دوتہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے اسے شام حامی حزبِ اختلاف کی مدد کی ضرورت ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد