الفتح الاسلام کو ’کچلنے‘ کا دعویٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ایک ماہ کی جنگ کے بعد فلسطینی پناہ گزیں کیمپ نہرالبارد میں موجود اسلامی شدت پسندوں کو ’کچل دیا ہے‘۔ وزیر دفاع الیاس المر نے کہا کہ الفتح الاسلام کے رہنماء اب فرار ہوچکے ہیں اور نہرالبارد کیمپ میں فوجی آپریشن ختم ہوگیا ہے۔ لیکن مصالحت کرانے والے مسلم مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ الفتح الاسلام نے فائربندی پر سمجھوتہ کیا ہے۔ نہرالبارد پناہ گزیں کیمپ میں ایک ماہ کی لڑائی کے دوران بیس شہریوں سمیت ڈیڑھ سو سے زائد افراد مارے گئے۔ وزیر دفاع الیاس المر نے لبنانی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ فوج نے ’ان دہشت گردوں کو کچل دیا ہے۔‘
لیکن وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ الفتح الاسلام کے رہنماء نہرالبارد کی سویلین آبادی میں چھپ گئے ہیں اور فوج ان کا پیچھا کرتی رہے گی۔ ان کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ کچھ مسلح جھڑپیں دوبارہ ہوسکتی ہیں۔ نہرالبارد رفیوجی کیمپ لبنان کے شہر تریپولی کے قریب واقع ہے۔ اس کی آبادی اکتیس ہزار ہے اور یہاں بسنے والے فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد لگ بھگ دو ہزار ہے۔ لبنان میں کل بارہ رفیوجی کیمپ ہیں جن میں ساڑھے تین لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔ فلسطینی رفیوجی یہاں اسرائیل کے قیام کے وقت آئے تھے اور روایت کے مطابق لبنانی فوج اس کیمپ میں داخل نہیں ہوتی ہے۔ لہذا رفیوجی کیمپوں میں سکیورٹی کا انتظام الفتح الاسلام کے پاس ہے۔ لبنان کی حکومت کا کہنا ہے کہ الفتح الاسلام کو شام کے خفیہ اداروں کی حمایت حاصل ہے جبکہ شام کی حکومت اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے۔ |
اسی بارے میں ’ہتھیار ڈال دیں ورنہ آپریشن ہوگا‘23 May, 2007 | آس پاس نہر البارد: فریقین میں شدید فائرنگ25 May, 2007 | آس پاس لبنانی فوج کو حزب اللہ کی وارننگ 26 May, 2007 | آس پاس نہرالبارد میں لڑائی، سولہ ہلاک02 June, 2007 | آس پاس نہرالبارد کیمپ پر شدید گولہ باری03 June, 2007 | آس پاس نہرالبارد کیمپ پر شدید گولہ باری03 June, 2007 | آس پاس نہرالبارد کےبعدعین الحلوہ میں لڑائی 03 June, 2007 | آس پاس اسلحہ سمگلنگ، یو این کی تشویش12 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||