قرآن کی بےحرمتی، ایک شخص گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک پولیس نے نیویارک یونیورسٹی کے ایک بیت الخلا میں قرآن کے رکھنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ یہ بات مقامی امریکی میڈیا نے منگل کی شام بتائي ہے۔ نیویارک کے مقامی اخبار نیوز ڈے سمیت مقامی میڈیا کے مطابق، نیویارک پولیس نے بروکلین کے علاقے میں رہنے والے ایک تئیس سالہ نوجوان کو نفرت پر مبنی حرکت کرنے کے جرم میں گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے گذشتہ اکتوبر میں مقامی پیس یونیورسٹی کے بیت الخلا میں قرآن کا نسخہ پھینک دیا تھا۔ اسٹینسلوف شمولووچ نامی شخص پر نفرت پر مبنی جرم اور ہراساں کرنے کے الزمات ہیں۔ نیویارک پولیس پیس یونیورسٹی میں نفرت پر مبنی جرائم کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ پیس یونیورسٹی میں دو مرتبہ قرآن کے نسخے بیت الخلا میں رکھ جانے واقعات ہوئے ہیں۔ مبینہ ملزم شمولووچ پر الزام ہے کہ انہوں نے گذشتہ برس اکتوبر کو پیس یونیورسٹی میں قرآن کا نسخہ بیت الخلا میں چھوڑ دیا تھا۔ پیس یونیورسٹی کی مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی رکن فائضہ علی کا بیان اخبار نے چھاپا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’افسوس اس بات کا ہے کہ کمیپسز میں مسلمانوں کیخلاف نفرت پر مبنی جرائم دہرائے جا رہے ہیں۔‘ بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے مسلمانوں کمیونٹی کے رہنماؤں سے ان کے تبصروں کے لیے رابطے کرنے کی کوشش کی جو بروقت نہیں ہوسکے۔ جبکہ امریکی مسلمانوں کی تنظیم کاؤنسل فار امریکن اسلامک رلیشنز یا کئير نے قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں مبینہ ملزم کی گرفتاری پر نیویارک پولیس کے اقدام کو سراہتے ہوئے پیس یونیورسٹی میں مسلمانوں کی دل آزاری اور انکے خلاف نفرت پرمبنی جرائم کے واقعات پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ | اسی بارے میں ’پوپ کے الفاظ انتہائی خطرناک ہیں‘18 September, 2006 | آس پاس بش کے الفاظ پر مسلمان مشتعل13 August, 2006 | آس پاس ویسٹ انڈیز میں ہندوستانی 17 April, 2007 | آس پاس ’جہاں اللہ اللہ کرنے کے سوا کچھ نہ ہو‘12 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||