BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 April, 2007, 04:35 GMT 09:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویسٹ انڈیز میں ہندوستانی

زید اعظم رحمٰن
’آج ہمارے پاس سب کچھ ہے، بس اب ہم اپنی جڑیں تلاش کرنا چاہتے ہیں‘۔
وسیٹ انڈیز کے کئی جزائر میں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد رہتی ہے جن کے آبا ؤ اجداد ہندوستان سے مزدوری کے لیے یہاں لائے گئے تھے۔ تو کیسے پہچنے یہ لوگ یہاں اور کیا کبھی اس سرزمین کو دیکھنے کی خواہش ہوتی ہے جو عرصہ ہوا ان سے بچھڑ گئی تھی؟

انیسویں صدی میں جب ویسٹ انڈیز کے جزائر میں بلآخر غلامی کا خاتمہ ہوا تو یہاں گنے کے کھیتوں میں کام کرنے کے لیے بڑی تعداد میں سستے مزدوروں کی ضرورت پڑی۔ اور یہ ضرورت پوری کی گئی ہندوستان کے مختلف حصوں سے۔ بڑی تعداد میں مزدوری کے لیے لوگ لائے گئے، کچھ واپس لوٹے لیکن زیادہ تر یہیں بس گئے۔

ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم میں شو نارائن چندر پال، دنیش رام دین، رام نریش سروان اور گنگا جیسے کئی ایسے کھلاڑی ہیں جن کے بزرگ ہندوستان سے یہاں آئے تھے۔

یہ کہانی گرینیڈا میں آباد

تعصب
 اس زمانے میں تو حالات یہ تھے کہ اگر آپ سامراجی حکمرانوں کا مذہب اختیار کر لیتے تو اچھی نوکری مل جاتی تھی۔ آپ ٹیچر بن سکتے تھے۔ ورنہ ہندوستان سے آنے والے لوگوں کو شدید تعصب کا سامنا ہوتا اور انہیں حقیر قسم کے کام ہی میسر آتے تھے۔
زید اعظم رحمٰن
زید اعظم رحمٰن کی ہے لیکن یہاں رہنے والے لاکھوں لوگوں میں سے کسی کی بھی ہوسکتی ہے۔

’میرے پڑدادا کو یہاں انیسویں صدی کے وسط میں لایا گیا تھا۔ غلامی کے خاتمے کے بعد، کیونکہ یہاں سستے مزدوروں کی بہت ضرورت تھی۔
مجھے ان کا نام یاد نہیں، لیکن میرے دادا کا نام حافظ یعقوب علی تھا، ان کی پیدائش ترینیداد میں ہوئی تھی۔ میری دادی کی پیدائش بھی ترینیداد کی ہی ہے۔

ہندوستان سے آنے کے بعد یہ ہماری چوتھی نسل ہے۔ میں کبھی ہندوستان نہیں گیا لیکن انشااللہ اس برس جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔میرے پڑدادا اترپردیش میں گونڈا شہر سے آئے تھے۔بس مجھے اتنا پتہ ہے۔ انشااللہ میں اپنے رشتیداروں سے رابطہ دوبارہ بحال کروں گا۔

میرے پردادا نے یہاں بہت محنت کی لیکن اٹھارہ سو اسی کے آس پاس وہ واپس گونڈا چلے گئے۔ میرے والد مجھے بتاتے تھے کہ جانے کے بعد انہوں نے حِفظ کیا، اور دس برس کے بعد واپس ترینیداد آئے۔

پرانے رشتے
 ہندوستان سے آنے کے بعد یہ ہماری چوتھی نسل ہے۔ میں کبھی ہندوستان نہیں گیا لیکن انشااللہ اس برس جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔میرے پڑدادا اترپردیش میں گونڈا شہر سے آئے تھے۔بس مجھے اتنا پتہ ہے۔ انشااللہ میں اپنے رشتیداروں سے رابطہ دوبارہ بحال کروں گا۔
زید اعظم رحمٰن

مجھے اردو بالکل نہیں آتی لیکن میرے والد مجھے اردو میں کچھ قسیدے، غزلیں، اور گانے سکھاتے تھے جو مجھے آج بھی یاد ہیں۔ اور مجھے گنگنانا اچھا لگتاہے کیونکہ وہ مجھے پرانے دنوں کی یاد دلاتے ہیں۔

اس زمانے میں ترینیداد میں وہ ثقافت زندہ تھی جو ہمارے بزرگ یو پی سے لائے تھے۔ہم قرآن پڑھنا سیکھتے تھے۔قسیدہ خوانی کرتے تھے اور اپنے مذہب پر عمل کرتے تھے۔

لیکن وہ مشکل دور تھا۔ سماجی تقاضے ایسے تھے کہ اپنے مذہب اور اپنی اقدار کو زندہ رکھنا مشکل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو سے میرا ناطہ ٹوٹ گیا کیونکہ یہاں کے قومی دھارے میں رچ بس جانے کے لیے میرے والدین نے انگریزی پر زیادہ زور دیا۔

اس زمانے میں تو حالات یہ تھے کہ اگر آپ سامراجی حکمرانوں کا مذہب اختیار کر لیتے تو اچھی نوکری مل جاتی تھی۔ آپ ٹیچر بن سکتے تھے۔ ورنہ ہندوستان سے آنے والے لوگوں کو شدید تعصب کا سامنا ہوتا اور انہیں حقیر قسم کے کام ہی میسر آتے تھے۔

لیکن آج ہمارے پاس سب کچھ ہے، بس اب ہم اپنی جڑیں تلاش کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد