نیویارک میں بجلی والوں کے خلاف مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’بندو کرو، بند کرو بجلی کی آنکھ مچولی بندو کرو‘، ’بجلی والے لوٹ کر کھا گئے‘، ایسے نعرے اور جلوس کراچی میں کے ای ایس سی یا اندرون پاکستان واپڈ کے خلاف نہیں تھے بلکہ امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے شہریوں کا نیویارک شہر کو بجلی کی فراہمی والے سب سے بڑے کاروباری ادارے ’کون ایڈیسن‘ کے خلاف تھے۔ سوموار کی شام نیویارک کے کوئنز ارر بروکیلن کے درمیاں محنت کش اور متوسط طبقوں کے علاقے گرین پوائنٹ میں وہاں کے لوگوں کا یہ ’فلیش لائیٹس مارچ‘ یا ٹارچ بردار جلوس تھا، جس میں گورے، کالے، مرد، عورتیں، بچے، اور پاکستنانی نژاد امریکی شہری بھی شامل تھے تو لاطینی امریکی نژاد تارکین وطن اور افریقی امریکی بھی نیویارک کے مختلف حصوں سے آکر شریک ہوئے تھے۔ ’مارچا ڈی لینٹرینا‘ ہسپانوی میں لکھا ہوا نعرہ تھا۔ ’جب تک بش ہے شامتیں آتی رہیں گی‘، کچھ امریکییوں نے نعرہ لگایا- ’کشمیر کی آزادی نہ کہ بھارتی فوج کی‘، نیویارک میں پاکستان یو ایس فریڈم فورم والوں نے بھی بینر اٹھایا ہوا تھا۔ ’ایک وقت پر ایک مسئلہ‘ جلوس کے شرکاء میں سے ایک نے کہا۔ جلوس میں شامل ایک بھارتی نژاد خاتون کو یو ایس فریڈم فورم کے بینر پر تحریر نمایاں نعرے ’کشمیر آزاد کرو نہ کہ بھارتی فوج‘ پر اعتراض تھا۔ انہوں نے کہا: ’یہ لوگ اپنا ایجنڈا لے آئے ہیں۔ اسلامی ایجنڈا۔‘
پاکستانی مسجد پر خونی آشام چڑھائي، امریکی دبائو پر مشرف کے ہاتھوں ہونے والی کارروائي پر بش کو خوشی، ورکرز ورلڈ کےعنوان سے ایک ہینڈ بل لال مسجد کے آپریشن کے خلاف بھی بانٹا جا رہا تھا۔ ’یہ سب کچھ امریکہ میں بے پناہ آزادیوں کا ثمر ہے‘ پمفلیٹ بانٹنے والے شاہد کامریڈ کا کہنا تھا۔ لیکن انکا کہنا تھا: ’اتنی آزادیوں کے باوجود اب بھی میڈیا، عدلیہ اور سول سوسائٹی کو اور دو قدم آگے جانا چاہیے۔‘ ’نا منظور نا منظور، بجلی کے بلوں میں سترہ فی صد اضافہ نا منظور‘، جلوس کے پر جوش شرکاء نعرے لگا رہے تھے۔ مجھے کراچی اور باقی پاکستان میں بجلی کے بند ہونے پر احتجاجی نعرے یاد آگئے۔ ’گلی گلی میں شور ہے، کے ای ایس سی والے چور ہیں، گلی گلی میں شور ہے واپڈا والے چور ہیں۔‘ یہ وہ لوگ یا ان کے حمایتی تھے نیویارک کے مغربی کوئینز علاقے میں سال دو ہزار چھ میں نو دنوں تک بند ہونیوالی بجلی کے نتیجے میں خراب ہونیوالے اپنی ’نان فوڈ‘ یا غیر خوراکی چیزوں کے خراب ہونے کی معاوضوں کی عدم ادائيگي کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔
کوئینز کے علاقے میں بجلی بند ہوجانے کے سب سے بڑے متاثرین وہاں کی محنت کش اور تارکین وطن آبادی تھی۔ لیکن پیر کی شام گرین پوائنٹ سے سنی سائيڈ (دو، تین میل) تک ہونے والے اس مظاہرے میں متاثرین سے یکجہتی اور ان کی حمایت میں سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین کی اکثریت متوسط اور متمول طبقوں کے نیویارکرز کی تھی۔ اگرچہ کوئینز اور اسکے پڑوسی علاقے میں پاکستانیوں کی بھی بہت بڑی تعداد آباد ہے لیکن اس مظاہرے میں صرف تین پاکستانی شریک تھے۔ وہ تھے یو ایس پاکستان فریڈم فورم کے شاہد کامریڈ، سرفراز امین اور جاوید ’بش‘۔ ’امریکہ میں تارکین وطن کی ملک بدری ایک دم بند کرو، امیگریشن بل منظور کرو‘ کے مطالبے کا ایک بڑا سٹیکر اپنی قمیض پر لگائے شاہد کامریڈ نے کشمیر کی آزادی سمیت کئی ’کازوں‘ کا بیڑہ اٹھا رکھا تھا۔ دنیا میں نہ صرف بجلی کا پہلا بلب بلکہ سزائے موت کی برقی کرسی بھی ایجاد کرنے والے سائنسدان فلپ ایڈیسن کی ہم نام ’ کون ایڈیسن‘ نیویارک اور اس کی ریاست میں بجلی کے فراہمی کی سب سے بڑی کمپنی ہے جس کے اثاثے پچیس بلین ڈالر اور منافع بارہ بلین ڈالر ہے۔ لیکن کوئینز کے علاقے میں جولائی دو ہزار چھ کو بجلی کی نو دن تک فراہمی منقطع ہونے کے سبب متاثرین کے نقصانات بارہ ملین ڈالر ہیں جو انہیں ادا نہیں ہوئے۔
جلوس میں تقسیم کیے جانیوالے ایک پمفلیٹ میں لکھا تھا کہ ’نقصانات کی ادائيگي تو کجا اب تک کون ایڈیسن ایسے تاریک واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کیلیے تیار نہیں۔ اور وہ بلوں کی صورت میں اپنے نرخوں میں اضافہ کرکے اپنے مینیجروں اور چوٹی کے عملداروں کو بڑی بڑی تنخواہیں اور حصہ داروں کو لاکھوں ڈالر ادا کرتی ہے جبکہ ان منافع سے سسٹم کو اپ گریڈ کیا جانا چاہیے تھا‘۔ جلوس میں شریک ایک پاکستانی صحافی نے کہا: ’اتنا تو پاکستان کا سالانہ بجٹ نہیں جتنے کون ایڈیسن کے سالانہ منافع جات ہیں۔‘ نیویارک میں بجلی والوں کیخلاف اس ’ٹارچ بردار‘ یعنی ایک طرح سے مشعل بردار جلوس کیلیے راستوں کی ٹریفک روک کر رہنمائي اور حفاظت نیویارک پولیس ڈ؛یپارٹمینٹ یا این وائي پی ڈی کے باوردی اور بے وردی اہلکار کر رہے تھے۔ مجھے حال ہی میں کراچی پولیس کی ’کارگذاری‘ یاد آئی جب بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے مارے ہوئے عوام کے احتجاجی مظاہرے پر لاٹھیاں اور آنسو گیس برسائے گئے تھے۔ | اسی بارے میں 'لاٹھی گولی کی سرکار‘ 17 March, 2007 | قلم اور کالم انوری اور کراچی24 June, 2007 | قلم اور کالم ’آمریت اور گھوڑوں کا انجام‘ 13 June, 2007 | قلم اور کالم کراچی میں بجلی کا شدید بحران 14 June, 2007 | پاکستان کراچی: بجلی کے لیے 9 ارب کا قرضہ04 June, 2007 | پاکستان لوڈ شیڈنگ سے پریشان زمیندار19 April, 2007 | پاکستان ’روزانہ آدھے گھنٹے بجلی بند‘03 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||