لندن دھماکوں کی برسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہا جاتا ہے کہ سات جولائی سنہ دو ہزار پانچ کے واقعات برطانیہ کو جگانے کے لیے کافی تھے۔ اس دن اسلامی بمبار آخر کار برطانیہ کے دارالحکومت کے عین مرکز میں دھماکے کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ لیکن ان دھماکوں کا ہونا، جن میں باون افراد ہلاک ہو گئے تھے، حکومت، پولیس اور خفیہ اداروں کے لیے کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔ حکومتی ادارے دھماکوں سے کچھ عرصہ پہلے سے پیشنگوئی کر رہے تھے کہ برطانیہ میں سوال یہ نہیں کہ دھماکے ہوں گے یا نہیں بلکہ سوال یہ تھا کہ کب ہوں گے۔ یعنی ان کا ہونا تقریباً یقینی تھا۔ گیارہ ستمبر کو نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر طیاروں سے حملے کے بعد دہشت گردی کے خلاف اقدامات برطانیہ میں بھی ایک بڑی ترجیج بن گئے۔ اس مد میں اخراجات کو دوگنا یعنی دو ارب پونڈ کر دیا گیا اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر نئے قوانین کے مسودے تیار ہونے لگے۔ لیکن اس سب کے باوجود لوگوں کی اکثریت ان اقدامات کی افادیت کی اس وقت تک قائل نہیں تھی جب تک کہ انہوں نے اپنی ٹی وی سکرین پر سات جولائی کے دھماکوں کے متاثرین کو دھوئیں سے بھرے زیر زمین ٹرین سٹیشنوں سے خون بہتے ہوئے نکلتے نہیں دیکھا۔
ان دھماکوں کے جلد ہی بعد یہ سوالات پوچھے جانے لگے کہ آیا حکام ان حملوں سے بچاؤ کے لیے مزید اقدامات کر سکتے تھے، کیا مختلف اداروں کے درمیان خفیہ معلومات کا تبادلہ صحیح طرح ہو رہا تھا یا نہیں، کیا ان معلومات کی روشنی میں درست اقدامات کیے گئے تھے۔ داخلہ امور کی دیکھ بھال کرنے والا خفیہ ادارہ ’ایم آئی 5‘ زیادہ منظر عام پر آنے لگا اور اس میں بھرتی کے نئے اشتہارات دیے جانے لگے۔ پولیس کی تنظیم نو بھی ہوئی جس میں انسداد دہشت گردی کے خصوصی یونٹوں کا اضافہ کیا گیا۔ ان اقدامات کی نسبت زیادہ متنازعہ تبدیلیاں بھی لائی گئیں۔ حکومت نے نئے قوانین منظور کیے اور شک کی بنیاد پر مبینہ دہشتگردوں کو حراست میں رکھنے کی قانونی مدت بڑھانے کے لیے بھی سرتوڑ کوششیں جار ی رکھیں۔ پارلیمان میں طویل بحث کے بعد پولیس کو زیادہ سے زیادہ اٹھائیس دن کا ریمانڈ حاصل کرنے کے اجازت دے دی گئی، تاہم اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ اس قانون میں مزید ترامیم کی جائیں گی۔
ان تمام اقدامات سے کیا فائدہ ہوا؟ اس سوال کے جواب میں حکام دہشتگردوں پر قائم کیے جانے والے کامیاب مقدمات کی مثالیں دیتے ہیں جن میں لندن اور امریکہ میں دھماکوں کی منصوبہ بندی میں شامل القاعدہ کے ایک سینیئر رکن دھرن باروت پر فرد جرم عائد کیا جانا بھی شامل ہے۔ لیکن کئی گرفتاریوں اور مقدموں میں حکومت کو ناکامی کا منہ بھی دیکھنا پڑا ہے۔ مسلمان رہنما اس بات کی شکایت کرتے رہے ہیں کہ کئی مسلمان نوجوانوں کو انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں یہ شبہ غلط ثابت ہوا اور پولیس کو انہیں چھوڑنا پڑا۔ اسی طرح پولیس اور خفیہ ادارہ مشتبہ افراد کے کوائف جمع کر کے ایک زبردست ڈیٹا بیس بنانے میں بھی کامیاب ہوگئے ہیں لیکن وہ اب بھی یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ برطانیہ میں موجود ہرخطرناک شخص کا نام اس ڈیٹا بیس میں موجود ہے۔ دوسری جانب دہشت گردی کا خطرہ بھی اپنا روپ بدل رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے مرکزی لندن اور گلاسگو کے ہوائی اڈے پر حملوں کو خفیہ اداروں یا پولیس نہیں روک سکی تھی بلکہ ان حملوں سے ممکنہ تباہی سے بچنے کی وجوہات محض خوش قسمتی اور وہاں پر موجود افراد کی بہادری ہیں۔
سات جولائی کے دھماکوں کے بعد چند سینیئر پولیس افسران کا کہنا تھا کہ اکثر لوگ یہ بات نہیں سمجھ رہے کہ یہ دھماکے ایک نئے سلسلے کا نقطہ آغاز ہیں اور یہ کہ مستقبل میں اس قسم کے حملے ہونے کا نہ صرف امکان ہے بلکہ ایسا ہونا یقینی ہے۔ لندن اور گلاسگو کے ناکام دھماکوں کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے سربراہ نے مجھے چند ہی دن پہلے کہا: ’اگر ان واقعات سے بھی لوگ نہیں جاگے تو مجھے معلوم نہیں کہ خطرے کی گھنٹی اور کیا ہو سکتی ہے۔‘ واضح رہے کہ سنیچر کے روز سات جولائی کے بم دھماکوں کی دوسری برسی منائی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں لندن میں بنائے گئے ایک باغ میں ایک تقریب منعقد ہو گی، جس میں لندن کے میئر کین لونگسٹن یادگار پر پھول چڑھائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||