ہلمند ہلاکتوں کی انکوائری کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی نے ہلمند میں غیر ملکی فوج کی جانب سے فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعے کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق جمعہ کو ہونے والے اس حملے میں پنتالیس افغان شہری اور باسٹھ طالبان مارے گئے جبکہ نیٹو اور اتحادی افواج یہ تعداد ماننے کو تیار نہیں۔ ایک ہفتے قبل بھی صوبہ ہلمند میں ہی پچیس شہریوں کی ہلاکت کے بعد صدر حامد کرزئی نے غیرملکی افواج پر لاپرواہی برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں اپنی حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کو کہا تھا۔ صدر کرزئی نے اس واقعے کی تفتیش کے لیے چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کا نیٹو افواج کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا ہے۔ نیٹو کی ایساف افواج کے ترجمان جان ٹامس کا کہنا تھا ’ ہم ہر ممکن تعاون کریں گے‘۔ ان کا کہنا تھا’ ہم ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم کر کے نہیں بتانا چاہتے لیکن یہ واضع کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک مرنے والوں کی تعداد ایک درجن کے قریب ہے‘۔
ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر فوج کو پتہ ہوتا کہ نزدیکی علاقے میں عام شہری موجود ہیں تو طالبان کو نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ عام شہریوں کی ہلاکت کا تازہ واقعہ جمعہ کی رات صوبہ ہلمند کے گاؤں گرشک میں اس وقت پیش آیا تھا جب امریکی اور افغان فوج پر حملے کے بعداتحادی افواج کے طیاروں نے طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی۔ ہلمند کے علاقے حیدرآباد کے محمد خان کے مطابق اس بمباری سے ان کے سات اہلِ خانہ ہلاک ہوئے جن میں ان کے بھائی اور اس کے پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے فون پر بات کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا’ اہلِ دیہہ نے بہت سی لاشوں کو اتوار کو سپردِ خاک کیا ہے‘۔ | اسی بارے میں ’مرنے والے شاید شہری ہی تھے‘01 July, 2007 | آس پاس ہلمند: نیٹو حملہ، عام شہری ہلاک30 June, 2007 | آس پاس افغانستان، ہلاکتوں پر غُصّہ جائز:نیٹو24 June, 2007 | آس پاس نیٹو کا کردار غیر ذمہ دارانہ: کرزئی23 June, 2007 | آس پاس شہری ہلاک، تفتیش ضروری:نیٹو22 June, 2007 | آس پاس ہلمند فضائی حملہ ’25 شہری ہلاک‘ 22 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||