BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 June, 2007, 10:01 GMT 15:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد: امریکی حملے میں چھبیس ہلاک
تباہ ہوئے گھر میں بچے کھڑے ہیں
صدر شہر میں کی گئی کارروائی میں کئی گھروں کو نقصان پہنچا
امریکی فوج کی سربراہی میں فوجی دستے نے بغداد کے شہر صدر میں ایک حملے میں چھبیس شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے شیعہ اکثریی علاقے میں صبح سویرے اس کارروائی میں سترہ شدت پسندوں کو حراست میں بھی لیا ہے۔

اس کے برعکس ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عراقی ہسپتال اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں آٹھ لوگ ہلاک ہوئے ہیں جن میں عام شہری اپنے گھروں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

دریں اثناء عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے صدر شہر پر ہونے والے اس حملے پر تنقید کی ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی سے قبل حکومت سے کسی قسم کا مشورہ نہیں کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ عراقی حکومت ان کی اجازت کے بغیر کی گئی کسی بھی کارروائی کو رد کرتی ہے۔ حکومت نے اس کارروائی پر وضاحت طلب کی ہے۔ اس کارروائی میں عراقی سپیشل فورس بھی شامل تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قسم کی کارروائی میں حصہ لینے سے پہلے عراقی فورسز کو حکومت سے اجازت لینی چاہیے تھی۔

یہ حملہ امریکی فوج کی جانب سے ایران سے اسلحہ سمگل کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں کے سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

امریکی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ خیال کیا جا رہا ہے کہ ان مبینہ شدت پسندوں کے ایران کے شدت پسند گروہوں سے قریبی روابط ہیں‘۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کارروائی میں امریکی دستوں کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

علاقے کے ایک رہائشی کے مطابق امریکی ہیلی کاپٹروں نے گنجان آباد علاقے پر مزائل داغے جہاں کی آبادی تقریباً بیس لاکھ ہے۔

بشیر احمد جو صدر شہر کے حبیبیا علاقے کے رہائشی ہیں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’صبح چار بجے کے قریب ایک بہت بڑا امریکی دستہ جس میں ٹینک شامل تھے نے گھروں پر حملہ کیا اور بم برسائے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمارا قصور کیا ہے ؟ ہم نے تو جوابی کارروائی بھی نہیں کی۔ ان کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں ہوئی‘۔

بی بی سی کے اینڈریو نارتھ نے بغداد سے بتایا ہے کہ امریکی کمانڈروں کا ماننا ہے کہ بغداد میں ہونے والے کار بم حملوں میں استعمال ہونے والے بم اس علاقے میں تیار کیے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد