بش سے جاسوسی دستاویزات طلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سینیٹ نے وائٹ ہاؤس پر زور دیا ہے کہ ملک کے اندر مشتبہ دہشتگروں کی جاسوسی سے متعلق دستاویزات پیش کرے۔ سینیٹ کی عدالتی کمیٹی نے بش انتظامیہ سے کہا ہے کہ جاسوسی کے اس متنازعہ پروگرام سے متعلق دستاویزات کمیٹی کے سامنے لائی جائیں۔ وائٹ ہاؤس انتظامیہ یہ دستاویز دینے سے کئی مرتبہ انکار کر چکی ہے۔ صدر بش ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں کہ انہوں نےاجازت لیے بغیر اس طرح کی جاسوسی کا حکم دے کر قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ نو ستمبر کے حملوں کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کو ملک کے اندر ان لوگوں کی ٹیلی فون کالوں اور ای میلوں کی جاسوسی کرنے کی اجازت دی گئی تھی جن کے بارے میں شبہ تھا کہ ان کا تعلق دہشت گرد تنظمیوں سے ہو سکتا ہے ۔ ناقدین کا کہناہے کہ اس طرح شہری حقوق پامال کیے گئے ہیں جبکہ صدر بش کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران صدارتی اختیارات کے تحت انہیں اس طرح کی نگرانی کا حکم جاری کرنے کا حق حاصل تھا۔ اس کمیٹی کی تحقیقات کا خصوصی ہدف وائٹ ہاؤس، نائب صدر ڈک چینی، نیشنل سکیورٹی کونسل اور محکمۂ انصاف ہیں، جو اس بات پر روشنی ڈالیں گے کہ اس دوران اس پروگرام کی قانونی حیثیت کے بارے میں ان کے درمیان کیا بات چیت ہوئی۔ سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین پیٹرک لیہہ کا کہنا ہے کہ ’انتظامیہ کے گواہوں کے بیانات کے ذریعے اطلاعات حاصل کرنے کی ہماری کوششوں کو گمراہ کیا جاتا رہا ہے‘۔ عدالتی کمیٹی نے مطلوبہ دستاویزات حوالے کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کو اٹھارہ جولائی تک کا وقت دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہمیں کمیٹی کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کا علم ہے اور ہم مناسب انداز میں اس کا جواب دیں گے‘۔ | اسی بارے میں امریکہ: جاسوسی کی اجازت پرطوفان 16 December, 2005 | صفحۂ اول ’متنازعہ پالیسی جاری رہے گی‘19 December, 2005 | صفحۂ اول ’کوفی عنان کی جاسوسی کی گئی‘26 February, 2004 | صفحۂ اول پاکستانیوں کے ساتھ کیا ہوا؟08.09.2003 | صفحۂ اول جاسوسی: دنیا کا دوسرا قدیم ترین پیشہ27 February, 2004 | صفحۂ اول انسپکٹر جاسوسی کررہے ہیں: صدام حسین06.01.2003 | صفحۂ اول امریکی جاسوس طیارہ پاکستان میں تباہ18.05.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||