BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کوفی عنان کی جاسوسی کی گئی‘
کوفی عنان کی بات چیت ٹیپ کی گئی
برطانیہ کی سابق وزیر کلیئر شارٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ عراق کے خلاف لڑی جانے والی جنگ سے پہلے، برطانیہ کے خفیہ اداروں نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی جاسوسی کی ہے۔

بی بی سی ٹیلی وژن کے مطابق ڈاؤننگ سٹریٹ نے پہلے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم بعد میں وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک مختصر سے بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ برطانیہ نے ہمیشہ بین الاقوامی اور ملکی قانون کے مطابق عمل کیا ہے۔

ادھر برسلز میں اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ اہکار نے کہا ہے کہ اگر سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی جاسوسی گئی ہے تو یہ غیر قانونی ہے۔

کلیئر شارٹ وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کی حکومت میں عہدۂ وزارت پر فائز تھیں لیکن عراق پر جنگ کے حکومتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے انہوں نےگزشتہ سال مئی میں استعفٰی دے دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی ایجنٹوں نے کوفی عنان کی گفتگو سنی اور بقول کلیئر شارٹ انہوں نے اپنی آنکھوں سے اقوامِ متحدہ کے سیکٹری جنرل کی بات چیت کی تحریری نقول بھی دیکھی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جاسوسی کا یہ سلسلہ کچھ عرصے تک چلتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ خود کوفی عنان سے بات کر رہی تھیں تو انہوں نے یہ بات بھی سوچی کہ لوگ ان کی اس گفتگو کے بارے میں بعد میں پڑھیں گے۔

کلیئر شارٹ نے حکومت سے الگ ہونے کے بعد سے وزیرِ اعظم کی پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور عراق کے خلاف جنگ کے جواز پر سوال اٹھائے ہیں۔

اس واقعہ سے قبل گزشتہ روز حکومتی وکلاء نے برطانوی خفیہ ادارے کی ایک سابق اہلکار کے خلاف وہ مقدمہ عدالت میں چلانے کا فیصلہ بدل دیا تھا جنہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ امریکہ نے اقوامِ متحدہ کے کئی اہم سفراء کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

اراکینِ پارلیمان برطانوی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ خفیہ ادارے کی اہلکار کے خلاف مقدمہ نہ کرنے پر واضح بیان دے۔

ایک سوال کے جواب میں کلیئر شارٹ نے کہا کہ یقیناً برطانوی جاسوسوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اقوامِ متحدہ میں کوفی عنان کے علاوہ دیگر لوگوں کے خلاف بھی اس طرح کی کارروائیاں کریں۔

توقع ہے کہ جمعرات کو پہلے سے طے شدہ اخباری کانفرنس میں وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر سے ان معاملات پر سوال پوچھے جائیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد