BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 February, 2004, 03:12 GMT 08:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاسوسی: دنیا کا دوسرا قدیم ترین پیشہ
ٹیلی فون ریکارڈ کرنے کا آلہ
ٹیلی فون ریکارڈ کرنے کا آلہ
سابق برطانوی وزیر کلیر شاٹ کے برطانوی اداروں پر عراق پر حملے سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کی جاسوسی کرنے کا الزام ایک طرف لیکن یہ حقیقت ہے کہ دوستوں اور دشمنوں کی جاسوسی کرنے کی روایت بہت پرانی ہے۔

یہ ایک ایسی روایت جس کے پتہ چلنے پر سکینڈل بھی بنتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ امریکہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی جاسوسی میں دلچسپی تھی۔

برطانوی مترجم کیتھرین گن نے ایک امریکی ادارے کی طرف سے عراق پر حملے سے پہلے برطانوی جاسوسوں کو پاکستان سمیت کچھ ممالک کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کی ہدایت پر مبنی ای میل اخبارات تک پہنچا دی تھی۔ اس کے خلاف بننے والا مقدمہ بدھ کے روز خارج کیا گیا تھا۔

امریکہ میں معلومات اکٹھی کرنے والے اس ادارے کے اہلکار فرینک کوزا کی یہ ہدایت یقیناً ’ایکیلون‘ نامی سسٹم کے استعمال بارے میں ہوگی۔

’ایکیلون‘ نظام کا ذکر جولائی سن دو ہزار ایک میں یورپی پارلیمان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ اس نظام کو کاروباری مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ بنیادی طور پر اس پروگرام کے تحت انگریزی بولنے والے پانچ ممالک آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برطانیہ،امریکہ اور کینیڈا نے دنیا کو مواصلاتی اعتبار سے پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا تھا، اور یہ ممالک اپنے اپنے علاقےمیں لوگوں کے درمیان ای میل اور ٹیلی فون پر رابطوں پر نظر رکھ سکتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ’ایکیلوں‘ کی مدد سے یہ ممالک ٹیلی فون، ای میل اور فیکس کے ذریعے ہونے والے پیغامات کے تبادلوں کو پڑھ اور سُن سکتے تھے۔

جاسوسی دنیا کا دوسرا قدیم ترین پیشہ ہے۔ جدید دور میں مخالفین کے سفارتخانوں میں آلات نصب کرنا خاصا مقبول رہا ہے۔

گزشتہ سال خبر آئی کہ برطانیہ نے پاکستانی ہائی کمیشن میں جاسوسی کے آلات نصب کئے تھے۔ برطانیہ نے اس خبر پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔

برطانوی ادارے ایم آئی فائیو کے سابق ایجنٹ پیٹر رائٹ نے اپنی کتاب ’سپائی کیچر‘ میں لکھا تھا کہ انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں ’ہم نے ریاست کے نام پر لندن بھر میں آلات نصب کئے ہوئے تھے‘۔ انہوں نے لکھا کہ ایک موقع پر فرانس کے سفارتخانے میں بھی آلات نصب تھے۔

انیس سو اکتیس میں امریکہ میں ’دی امریکن بلیک چیمبر‘ نامی کتاب میں سنسنی خیز انکشافات کئے گئے۔ یہ کتاب خفیہ تحریر پڑھنے کے ماہر ہربرٹ یارڈلے نے لکھی تھی۔

یارڈلے بلیک چیمبر نامی ایک یونٹ کے سربراہ تھے جو پہلی جنگ عزیم سے لے کر انیس سو اٹھائیس تک متحرک تھا۔ اس یونٹ کو ہینری سٹِمسن کے وزیر خارجہ بننے کے بعد اس وقت ختم کیا گیا جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان کو ملنے والی معلومات کا ذریعہ کیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد