یروشلم میں گے پریڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یروشلم میں انتہائی سخت سکیورٹی اور شہر کے مذہبی حلقوں کی طرف سے احتجاج کے دوران ہم جنس پرستوں نے مارچ کیا ہے۔ اسرائیل پولیس کے مطابق ایک قدامت پسند یہودی کو جو اس جلوس یا مارچ پر بم حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا گرفتار کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی پولیس نے مارچ کے دوران اٹھارہ دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا ہے۔ اس مارچ کے خلاف بعض مذہبی گروہوں نے عدالت میں اپیل دائر کی تھی جسے عدالت نے رد کر دیا تھا۔ اس مارچ میں کسی ممکنہ تصادم کو روکنے اور مارچ کی حفاظت کرنے کے لیے سات ہزار کے قریب پولیس اہلکار تعینات کیئے گئے تھے۔ اسرائیلی پولیس کے ترجمان مکی روزنفیلڈ نے کہ کہ انہوں نے بم حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے شخص کے بیگ سے دھماکہ خیر مادہ بھی برآمدکیا ہے۔ روزنفیلڈ کے مطابق اس نے بم کو مارچ میں راستے میں نصب کرنے کا بھی اعتراف کیا ہے۔ عدالت سے ہم جنس پرستوں کے مارچ کے خلاف اپیل کے رد ہو جانے کے بعد پولیس پر پتھراؤ کرنے کے الزام میں پندرہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ تقریباً دوہزار کے قریب ہم جنس پرستوں نے اس مارچ میں حصہ لیا۔ انہوں نے ہاتھوں میں رنگ برنگے غبارے اور نیلسن مینڈیلہ اور دلائی لامہ کے پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔ مارچ کے منتظمین کے مطابق وہ پانچ ہزار افراد کے شریک ہونے کی توقع کر رہے تھے۔ ہم جسن پرستوں کی ایک تنظیم گے رائٹ گروپ اوپن ہاؤس کی چیئرپرسن نوا ستات نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ یروشلم کے وسط میں آزادی رائے کا اظہار کرنے پر انتہائی مسرت محسوس کر رہی ہیں۔ کئی ہزار قدامت پسند یہودیوں نے اس مارچ کے خلاف احتجاج کیا اور کوڑا دانوں میں آگ لگا دی۔ مظاہرین نے شرم شرم کے بینر بھی اٹھا رکھے تھے۔ مذہبی گروہوں نے گزشتہ ہفتے کے دوران کئی مرتبہ اس مارچ کے خلاف احتجاج کیا اور پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، ٹائیر جلائے اور پولیس سے جھگڑے کیئے۔ ہم جنس پرستوں کی یہ پریڈ گزشتہ چھ سال سے یروشلم میں منعقد کی جاتی ہے اور یہودیوں کے علاوہ عیسائی اور مسلمان بھی اس کے خلاف ہیں اور وہ ہم جنس پرستی کو ایک نفرت انگیز فعل قرار دیتے ہیں۔ لیکن شہری حقوق کی تنظیمیں کی خیال ہے کہ اس سے شہر کی تقافت میں تنوع پیدا ہوتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کی بیٹی ڈیانا اولمرت کا جو خود بھی ہم جنس پرست ہیں کہنا ہے کہ بحث یہ نہیں ہے کہ آخر یروشلم ہیں کیوں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اسی طرح ہے کہ خواتین کو ووٹ دینے کا حق ملنا چاہیے۔ گزشتہ سال سکیورٹی تحفظات کی وجہ سے یہ پریڈ ایک سٹیڈیم میں منعقد کی گئی تھی۔ سن دو ہزار پانچ میں قدامت پسند یہودیوں نے تین افراد کو چاقو مار کر زخمی کر دیا تھا۔ |
اسی بارے میں اٹلی میں ’گے‘ حقوق کے لیے مظاہرہ10 March, 2007 | آس پاس ہم جنس پرستوں کا ’پہلا‘ ٹی وی شو05 April, 2007 | فن فنکار برازیل: لاکھوں کی گے پرائیڈ پریڈ 11 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||