پاکستانی، مسلمان ، شاعر اورگے افتی! | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افتخار نسیم ، افتی نسیم یا صرف افتی بڑی چیز ہیں۔ وہ اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ عورت بھی ہیں اور مرد بھی۔ یعنی نرمان۔ یہ افتی ہی ہو سکتےہیں جو جب بر صغیر میں اردو کی مہان ناول نگار قرت العین سے ملنے گئے تو اپنی جیب سے لپ اسٹک نکال کر انکے ہونٹوں پر لگانے لگے۔ افتی نسیم کتنے بڑے شاعر ہیں اس کا فیصلہ تو ان کے پڑھنے والے یا یہ فلم دیکھنے والے خود ہی کریں گے ، لیکن افتی وہ پہلے شاعر ہیں جنہوں نے اردو شاعری میں گے یا ہم جنس احساسات اور شناخت کی بات ببانگ دہل کی ہے۔ افتی صرف خود ہی گے نہیں بلکہ ہمعصر امریکہ میں گے حقوق کی تحریک کا ایک مشہور نام بھی ہیں۔ وہ شکاگو سٹی کے ایک بڑے اعزاز ’شکاگو گے اینڈ لزبین ہال آف فیم‘ کو حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔ افتی شکاگو کی وہ شمع ہیں جو سحر ہونےتک جلتی رہتی ہے۔ بلکہ یہ شکاگو کی شمع محفل ہیں۔ وہ اپنے شہر سے تب چلے تھے جب وہ لائلپور کہلاتا تھا۔ لائلپور کا یہ لڑکا زمانہ طالبعلمی میں امریکہ چلا آیا- یہ وہ امریکہ تھا جس کے بارے میں اُس نے صرف لاہور کی لائبریریوں میں پڑھا تھا۔ لائلپور کا افتی بچپن میں گیند اور بلے سے نہیں بلکہ لڑکیوں کے سنگ گڈے گڑیوں اور گوٹہ کناری سر پر ڈھاپنے کا کھیل کھیلتا تھا- ٹانکتی پھرتی ہیں کرنیں بادلوں کی شال پر کچھ بڑے ہوئے تو ہیجڑوں کی سنگت میں انکی مڑھی ( ہیجڑوں کا مرکز) میں انکے لڑکپن کا اچھا خاصا حصہ گزرنے لگا۔ ہیجڑوں کی پوری دنیا اور وہاں استعمال ہونے والے پیچیدہ الفاظ انہوں نے اپنے ایک افسانے میں بھی بیان کئے ہیں۔ افتی ’مختلف‘ تھے اور ان کا مختلف ہونا انکی ذات کی سزا ٹہرا۔ وہ ایک ہم جنس یا ایک گے ہونے کے ناطے لائلپوری اور پاکستانی سماج میں جبر اور نفرت کا شکار رہے۔ سو اس طرح افتی امریکہ پدھارے۔ افتی نے امریکہ میں کالج جوائن کیا، کلب میں ناچے اور طرح طرح کے کاموں کے ساتھ ساتھ مرسیڈیز کاروں کے سیلز مین بھی رہے۔ لیکن افتی اب بہت اداس ہیں کہ امریکہ اب اُس کا وہ امریکہ نہیں رہا جس میں وہ رہ رہا تھا- ایک پاکستانی، مسلمان اور گے افتی! افتی اک شاعر، لکھاری، صحافی و کالم نگار، اور ایک مقامی دیسی ریڈیو سرگم کے شو کے میزبان بھی ہیں۔ نٹ کھٹ بھی ہیں اور رنگ باز بھی۔ افتی مشاعروں کے نہیں مجروں کے شاعر ہیں۔ زندگی کے مجرے کے شاعر۔یہ جو بہت بڑا مجرا ہے۔ شائد اسی لئے انہوں نے کہا ہے: زندگي چلتی ہے کیسے ناز نخرے سے نسیم آپ بھی اس ’طوائف‘ کی کچھ پہلی سی ادائیں دیکھیں۔ آپ کو یہ فلم کیسی لگی ہمیں ضرور بتائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||