BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 May, 2007, 09:35 GMT 14:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیار کی کہانی یا ’دو لڑکیوں کی شادی‘

 شہزینہ اور شمائل راج
’ہم اپنی محبت میں ثابت قدم رہیں گے‘
پاکستان کے شہر فیصل آباد کے رہائشی شہزینہ اور شمائل راج کی داستان کچھ ایسی ہے جس کی مثال کم از کم اس خطے میں نہیں ملتی۔

اس ایک کہانی کے ساتھ اس معاشرے قانون اور تہذہب کے کئی ایسے پہلو جڑے ہیں جن پر پاکستان کا معاشرہ کھلے عام گفتگو کرنے سے بھی گھبراتا ہے۔

فیصل آباد کا شمائل راج جب پیدا ہوا تو وہ ایک لڑکی تھا۔ اس کا نام زرینہ رکھا گیا۔ یہ بچی جب اپنے لڑکپن میں پہنچی تو اسے اپنے جسمانی تغیر و تبدل کا احساس ہوا۔ طبی ماہرین کے مشورے کے بعد جنس تبدیلی کے آپریشن ہوئے۔ہارمون تبدیلی کی ادویات استعمال کروائی گئیں اور خاندان میں صلاح و مشورے کے بعد زرینہ کو لڑکا تسلیم کرلیا گیا اور اس کا نیا نام شمائل راج رکھا گیا۔

شمائل راج نے ذرائع ابلاغ کےنمائندوں کو بتایا کہ اس نے تین چار ماہ روزانہ شیو کی اور چہرے پر بلیڈ پھیرا جس کے نتیجے میں اس کی داڑھی مونچھ آگئی جبکہ آواز پہلے ہی مردانہ ہوچکی تھی۔

جنسی تبدیلی کے عمل کو سولہ برس گزر جانے کے بعد چند قریبی رشتہ داروں کے سوا باقی ساری دنیا اسے ایک ’مکمل‘ مرد مانتی تھی۔ شمائل نے ایک عام مرد کے طور پر زندگی بسر کرنا شروع کی اور چند کار ڈیلروں کے ساتھ مل کر کاروں کی خرید و فروخت کا کاروبار کیا۔

انہی حالات میں تینتیس برس کے شمائل راج سے اسی کی ایک رشتہ دار پچیس سالہ شہزینہ طارق نے محبت کا اظہار کر دیا۔ شہزینہ کا کہنا ہے کہ اس میں شمائل راج کا کوئی قصور نہیں ہے۔ پہل اس نے خود کی تھی اور شمائل سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ وہ اسے بھگا لے جائے کیونکہ شہزینہ کے بقول اس کے والد اس کی شادی اسں کی مرضی کے خلاف ایک ایسے خاندان میں کرنا چاہتے تھے جو اسے قابل قبول نہیں ہے۔

اس جوڑے نے گھر سے بھاگنے کا بالکل ویسا ہی طریقہ اپنایا جیسا کہ عام طورپر پاکستانی معاشرے میں خاندان سے بغاوت کرکے شادی کرنے والا جوڑا اپناتا ہے۔

’میاں بیوی بننے کے بعد یہ راز افشا ہوا اور ہم بدنامی اور بربادی کا شکارہوئے‘

رات کی خاموشی میں دونوں گھر سے نکلے، لڑکے کے دوستوں نے نکاح کا بندوبست کیا اور اس جوڑے کے وکیل زبیر افضل رانا کے مطابق پناہ کے لیے وہ کراچی چلے گئے جہاں وہ تین ماہ تک کرائے کے ایک مکان میں قیام پذیر رہے۔

مروجہ طریقۂ کار کے عین مطابق لڑکی کے والدین نے شمائل پر اغواء کا مقدمہ درج کروا دیا اور جوابا شمائل اور شہزینہ نے لاہورہائی کورٹ میں رٹ کرکے ’پولیس گردی‘ سے بچاؤ کی استدعا کی۔

ان دنوں عام طورپر پاکستان کی عدالتیں مرضی کی شادی کرنے والے جوڑوں کو ریلیف دیتی ہیں لیکن اس سے پہلے ہی جب لڑکی کے والد کے اس بیان نے صورتحال یکسر تبدیل کر دی کہ شمائل راج پیدائشی لڑکی ہے اور پھر میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ میں اس امر کی تصدیق کر دی۔

پاکستان کی اعلٰی عدالت میں یہ سوال اٹھا کہ کیایہ معاملہ ہم جنس پرستی کا ہے؟ لڑکی کے والد طارق حسین نے عدالت سے کہا کہ’یہ دو لڑکیوں کی شادی ہے جس کی مذہب اور اسلامی معاشرہ اجازت نہیں دیتا‘۔

شمائل راج کے جسمانی تبدیلی کا عمل جسے اس نے سولہ برس سے راز رکھا ہوا تھا اور وہ اس کے افشاء سے اس حد تک گھبراتا تھا کہ جب عدالت میں اس سے پوچھا گیا تو بقول شمائل راج اس نے عدالت میں محض اس لیے جھوٹ بول دیا کہ اس وقت عدالت میں اس کے دوست بھی موجود تھے اور وہ ان کے سامنے یہ اعتراف نہیں کرنا چاہتا تھا۔

خود ان کے وکیل نے کہا کہ طبی ملاحظہ ہوجانے تک شمائل نے انہیں بھی اس حقیقت سے لاعلم رکھا تھا۔شمائل کے بقول اس کے دو آپریشن ہوچکے ہیں اور تیسرا آپریشن بیرون ملک ہونا تھا کہ اچانک یہ افتاد آن پڑی۔ شمائل کے مطابق اس نے شہزینہ کو شادی سے قبل اپنی مکمل جسمانی حقیقت بتا دی تھی۔

 شمائل راج اور شہزینہ کی محبت کی کہانی ابھی ادھوری ہے اور بتدریج اپنے انجام کی جانب بڑھ رہی ہے تاہم ان دونوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک ایسی بحث کا آغاز کروا دیا ہے جس پر کھلے بندوں اظہار خیال کرنا بعض اوقات زندگی کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔

شمائل راج نے ایک موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ ’میاں بیوی بننے کے بعد یہ راز افشا ہوا، ہم بدنامی اور بربادی کا شکارہوئے ہیں‘۔ان کا یہ کہنا کچھ غلط بھی نہیں ہے کیونکہ اس راز کے افشاء ہونے کے بعد اس کے وہ دوست بھی خلاف ہو گئے جو پہلے محبت کی شادی میں بڑھ چڑھ کر اس کے ساتھ تھے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اس کے کاروباری حصہ داروں نے ہی انہیں پولیس کے ہاتھوں پکڑوایا ہے اور خود شمائل کا کہنا ہے کہ اسے کاروبار میں لگے بیس لاکھ روپے کے سرمایہ کے ڈوب جانے کا خطرہ ہے۔

عدالت کے حکم پرگرفتاری کے بعد انہیں الگ الگ شہروں کی جیل بھجوادیا گیا ہے۔ شہزینہ طارق کو اس کے آبائی شہر فیصل آباد کی جیل بھجوایا گیا ہے تاکہ اس کے والدین بھی اسے مل سکیں۔

پنجاب میں کہا جاتا ہے کہ’باپ کا ڈنڈا اور ماں کا دوپٹہ‘ لڑکی کا بیان تبدیل کروا دیتا ہے لیکن شہزینہ طارق نے دوسرے شہر کی جیل جاتے ہوئے ذرائع ا بلاغ کے نمائندوں کو کہا کہ اب وہ پیار کا یہ رشتہ کبھی نہیں توڑے گی۔شہزینہ نے، جو ایم اے اسلامیات ہے، کہا کہ انہیں شمائل سے بے حد محبت ہے اور یہ الگ الگ جیلیں انہیں ایک دوسرے سے دور نہیں کر سکتیں کیونکہ اس کے بقول’ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی طور پر اب وہ ایک ہیں اور کوئی انہیں جدا نہیں کر سکتا‘۔

شہزینہ کا کہنا تھا’میں نے سیکس کے لیے شادی نہیں کی تھی، میں ہم جنس پرست نہیں ہوں، ہم نے پیار کیا ہے‘۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ اپنی محبت میں ثابت قدم رہیں گی۔

وویمن ایکشن فورم کی ایک عہدیدار اور ایک این جی او ’شرکت گاہ‘ کی گلناز تبسم نے کہا کہ یہ دو انسانوں کے آپس میں تعلقات کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم جنس پرستی اس خطے کی تہزیب و تمدن کا حصہ ہے اور تاریخ سےاس کا شواہد ملتے ہیں لیکن آج اس معاشرے میں اس ایشو پر بات کرنا بھی مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس جوڑے کی بھرپور حمایت کرتی ہیں۔

شمائل راج اور شہزینہ کی محبت کی کہانی ابھی ادھوری ہے اور بتدریج اپنے انجام کی جانب بڑھ رہی ہے تاہم ان دونوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک ایسی بحث کا آغاز کروا دیا ہے جس پر کھلے بندوں اظہار خیال کرنا بعض اوقات زندگی کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔

لڑکیوں کا جوڑا
’جسمانی تبدیلی سے گزر رہی ہوں‘
ہم جنس پرست(فائل فوٹو)دولہا: لڑکی یا لڑکا
لاہور ہائی کورٹ میں دولہے کی جنس پر تنازعہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد